’بھارتی افواج کو اسلحے کی کمی کا سامنا ہے‘

بھارتی وزیر دفاع اے کے انٹونی تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption بھارتی وزیر دفاع اے کے انٹونی کو فوجی سربراہ وی کے سنگھ کے انکشاف کا سامنا ہے۔

بھارت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں قبول کیا ہے کہ فوجی سربراہ وی کے سنگھ نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ایک خط لکھا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے خط کے عام ہوجانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اخبار میں شائع خبروں کے مطابق بھارتی فوجی سربراہ نے وزیر اعظم کے نام مبینہ خط میں لکھا تھا کہ تقریباً پورا کا پورا جنگی ٹینکوں کا بیڑا ’انتہائی اہم اسلحہ جات سے اس قدر خالی ہے کہ اس سے دشمن کو مات نہیں دی جا سکتی ہے۔‘

خبروں میں کہا گیا ہے کہ فوجی سربراہ نے لکھا ہے کہ فضائی دفاع ’ستانوے فی صد تک ناکارہ ہے‘ اور بری فوج ’جوانوں اور اسلحوں کی کمی کا شکار ہے‘۔

انھوں نے ضابطوں اور سامانوں کے حصول میں تاخیر اور قانونی پیچیدگیوں میں بھی ایک قسم کے ’خالی پن‘ کا خط میں ذکر کیا ہے۔

خط کے عام ہوجانے پر وزیر دفاع نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس ضمن میں مناسب کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔

ہندوستانی میڈیا میں شائع خبروں کے مطابق بھارت کی بری فوج کے سربراہ وی کے سنگھ نے وزیر اعظم کے نام لکھے مبینہ خط میں ہندوستانی فوج کے پاس اسلحہ اور بارود کی کمی کا ذکر کیا تھا جس کے بعد اس معاملے کو ایوان بالا میں اٹھایا گیا۔

وزیر دفاع نے ایوان اور ملک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارتی فوج کی تیاریاں مضبوط رہی ہیں اور آئندہ بھی یہ مستحکم رہیں گی۔

راجیہ سبھا میں حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے اے کے انٹونی نے کہا کہ ’ایسے خطوط کو عام نہیں کیا جا سکتا، کانفیڈنشیل یعنی مخفی خط و کتابت کو شائع کرنا ہمارے دفا‏عی مفاد اور ملک و قوم کے حق میں نہیں ہے۔‘

انھوں نے ایوان کو یقین دلایا ’ہماری فوجی تیاریاں مضبوط ہیں اور میں اس ایوان اور ملک کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ مزید مضبوط ہوں گی۔ ہم اپنی فوج کو بہترین ساز و سامان فراہم کراتے ہیں۔ حکومت ملک کے دفاع کے لیے ہمیشہ مستعد ہے۔‘

اے کے انٹونی نے کہا کہ ’ہندوستانی فوج کو دنیا کی بہترین فوج بنانے کے لیے حکومت اعلیٰ سطح کی تربیت، اسلحہ اور آلات فراہم کرتی ہے۔‘

ایوان میں حزب اختلاف کے رہنما ارون جیٹلی نے مبینہ خط میں ظاہر کی گئی فوجی ضروریات کی عدم فراہمی پر تشویش ظاہر کی۔

انھوں نے کہا ’اس خط کو سر عام بحث کا معاملہ نہیں بنایا جانا چاہیے، لیکن ہتھیاروں کی خرید کے بارے میں میڈیا میں تشویش ناک خبریں شائع ہو رہی ہیں۔‘

انھوں نے کہا، ’اس بات کی یقین دہانی کی جانی چاہیے کہ اس میں کوئی گڑبڑ نہ ہو۔ دوسری تشویش ہماری دفا‏عی تیاریوں کے بارے میں ہے۔ میڈیا میں دفاع سے متعلق تشویشناک خبریں آ رہی ہیں۔‘

اسی دوران دوسرے چند رہنماؤں نے فوجی سربراہ کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے وزیر دفاع اے کے انٹونی اور وزیر داخلہ پی چدامبرم سے اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔

اسی بارے میں