کشمیر میں تصادم، پانچ شدت پسند ہلاک

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے شمالی قصبہ ہندوارہ میں بدھ کو فوج اور مسلح شدت پسندوں کے درمیان تصادم کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔

یہ تصادم ایسے وقت ہوا ہے جب بھارتی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ وادی میں موجود تھے۔ یہ تصادم ہندوارہ کے راجوار علاقہ میں ہوا۔

تصادم کی تفصیلات دیتے ہوئے کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ایچ ایس برار نے بی بی سی کو بتایا ’مارے گئے شدت پسندوں میں اکثر کا تعلق لشکر طیبہ کے ساتھ تھا۔ ہمیں شبہ ہے کہ وہ غیرملکی ہیں، لیکن پولیس معاملہ کی تفتیش کررہی ہے۔‘

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ بھی بدھ کے روز وادی میں ہی موجود تھے۔ کشمیر میں تعینات فوج کی پندرہویں کور کے ایک اعلیٰ افسر کرنل گریوال نے بتایا ’جنرل سنگھ منگل کے روز ہی آئے تھے۔ آج انہوں نے کور ہیڈکوارٹر میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی اور واپس چلے گئے۔‘

تاہم سی آر پی ایف کے ترجمان سُدھیر کمار نے بتایا کہ مارے گئے شدت پسندوں کی شناخت نہیں ہوپائی ہے۔

راجوار کے مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ فوج نے محاصرے کے دوران بارودی سرنگیں بچھادی تھیں اور مسلح شدت پسند محاصرہ توڑ کر فرار ہوئے تو بارودی مواد پھٹ جانے سے ان کی موت ہوئی ۔

تاہم فوج، پولیس اور سی آر پی ایف نے بارودی سرنگیں بچھانے کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کشمیر کا دورہ کرنے سے قبل بھارتی فوج کے ترجمان نے نئی دلّی میں انکشاف کیا تھا کہ جموں کشمیر میں مسلح تشدد ابھی بھی ایک خطرہ ہے۔

اِدھر پولیس کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ سال کےدوارن مسلح تشدد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس تصادم سے صرف ایک دن قبل جموں کشمیر کے موجودہ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے جموں میں اعلان کیا کہ فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کو ختم کرنے کے لئے جو کمیٹی بنائی گئی ہے اس کی سفارشات پر فوری عمل کیا جائے گا۔

لیکن حکومتِ ہند کی نائب وزیر داخلہ مولاپالی راما چندرن نے اعلان کیا کہ ’آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ہٹانے سے متعلق کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے‘۔

اسی بارے میں