’خط کو افشاء کرنا ملک سے بغاوت ہے‘

جنرل وی کے سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل وی کے سنگھ اور اور وزارت دفاع کے درمیان کافی دنوں سے کشیدگی ہے

بھارت کی بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے کہا ہے وزیراعظم منموہن سنگھ کو تحریر کیےگئے خط کو افشاء کرنے میں ان کا ہاتھ نہیں ہے اور اس طرح کے خط کو ظاہر کرنا ملک کے ساتھ بغاوت کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایسا کرنے والے کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور اسے سزا ملنی چاہیئے۔

آئندہ مئي کے اواخر میں سبکدوش ہونے والے فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ اور حکومت کے درمیان اختلافات اورگہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

معروف اخبار انڈین ایکسپریس نے یہ خبر شائع کی ہے کہ مسٹر سنگھ نے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو بھی ایک خط لکھ کر ایک لیفٹنٹ جنرل کے خلاف تفتیش کرنے کی بھی سفارش کی تھی۔

کہا جا رہا ہے کہ ترنمول کانگریس پارٹی کے ایک رکن پارلیمان نے مبینہ طور پر یہ خط دو ہزار گيارہ میں تحریر کیا تھا اور لیفٹنٹ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کے خلاف تفتیش کے لیے کہا گيا تھا۔

مسٹر دلبیر پر ہتھیاروں کی خرید و فروخت میں گھپلا کرنے کا الزام لگایا گيا تھا۔ جنرل وی کے سنگھ کے بعد فوج کے سربراہ بننے والے جنرل بکرم سنگھ کے بعد دلبیر سنگھ سب سے سینیئر فوجی افسر ہیں۔

امکان یہ ہے کہ بکرم سنگھ کے سبکدوش ہونے کے بعد دلبیر سنگھ سہاگ ہی بھارتی فوج کے سربراہ ہوں گے۔

جنرل وی کے سنگھ اس وقت کشمیر کے دورے پر ہیں اور امکان ہے کہ ان کی واپسی پر ان کے اور وزارت دفاع کے حکام کے درمیان ملاقات ہوگی ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں نشر کی جا رہی ہیں کہ پہلے اس خط کے افشاء کرنے کے متعلق خود جنرل وی کے سنگھ پر شک تھا لیکن اب معاملہ الجھ ساگيا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ جنرل سنگھ کے خلاف کاررائي بھی کی جا سکتی ہے لیکن چونکہ اس وقت برک یعنی برازیل، روس، بھارت، چين اور جنوبی افریقہ گروپ کی دلی میں کانفرنس چل رہی ہے اس لیے اس کے اختتام کے بعد ہی کچھ بھی ممکن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی کو ایماندار سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔

اس سے قبل بھارتی وزیر دفاع اے کے اینٹنی نےتسلیم کیا تھا کہ فوج کے سربراہ نےگزشتہ برس وزیراعظم کو ایک خط لکھا تھا۔

کہا تھا کہ فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ اُس ریٹائرڈ افسر کے خلاف کارروائی کرنے کے حق میں نہیں تھے جس پر انہوں نے رشوت کی پیشکش کرنےکا الزام لگایا ہے۔

اس سے قبل جنرل سنگھ نے یہ سنسنی خیز الزام لگایا تھا کے بھارتی فوج کے ایک سابق جنرل نے دفاعی آلات کے ایک سودے کی منظوری کے عوض انہیں چودہ کروڑ روپے دینے کی پیشکش کی تھی۔

اے کے اینٹونی نے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ جنرل سنگھ نے انہیں بتایا تھا کہ ستمبر دو ہزار دس میں فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ نے ٹرکوں کی خرید کے ایک سودے کی منظوری کے بدلے انہیں کروڑوں روپے دینے کی پیش کش کی تھی۔

لیکن وزیر دفاع نے پیر کو جنرل سنگھ کے بیانات کے بعد جامع انکوائری کے لیے یہ معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو کے سپرد کر دیا ہے حالانکہ اب بھی انہیں کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

جنرل وی کے سنگھ اور وزیر دفاع کے درمیان تعلقات کافی عرصے سے کشیدہ ہیں۔ جنرل سنگھ اس بات سے ناراض ہیں کہ وزارت دفاع نے ان کی تاریخ پیدائش میں ترمیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

فوج کے سربراہ کا دعوٰی ہے کہ بھرتی کے وقت ان کی تاریخ پیدائش غلط لکھی گئی تھی اور اسے درست کرانے کے لیے وہ حکومت کو سپریم کورٹ تک لے گئے تھے لیکن انہیں کوئی کامیابی نہیں مل سکی تھی۔

جنرل سنگھ اکتیس مئی کو ریٹائر ہونے والے ہیں اور ان کے تازہ ترین بیان کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ وہ اب تک کیوں خاموش رہے۔

اسی بارے میں