بھارتی کشمیر: ہزاروں بچوں کے خلاف مقدمات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پولیس تھانوں میں حاضری اور عدالتی کارروائی سے بچے پریشان ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہزاروں بچوں کو پولیس تھانوں میں طلبی اور عدالتوں میں حاضری کا سامنا ہے۔

ان بچوں کو دو ہزار دس اور دو ہزار گیارہ کے دوران بھارت مخالف مظاہروں اور فورسز پر پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

ان بچوں کے والدین نے جمعرات کو مقامی عدالت میں وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے اُس وعدے کو ایک مذاق قرار دیا جس میں انہوں نے کمسن لڑکوں کے مقدمات واپس لے کر ’عام معافی‘ کا اعلان کیا تھا۔

جمعرات کو کئی کمسن بچوں کو عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا۔ ان میں بعض سکول سے براہ راست عدالت پہچنے تھے جبکہ بعض ابھی پولیس کی حراست میں ہی ہیں۔

عدالت میں ان بچوں کا دفاع کرنے والے نوجوان وکیل بابر جان قادری نے بی بی سی کو بتایا ’دو ہزار دس میں جو احتجاجی تحریک چلی تھی اسے دبانے کے لیے یہاں بیس ہزار لڑکوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے بیشتر کمسن بچے ہیں۔ انہیں ضمانت پر رہا تو کیا گیا لیکن ان کی زندگی عذاب بن کر رہ گئی ہے۔‘

قادری کا کہنا ہے کہ ہر جمعہ کو ان بچوں کو مقامی پولیس تھانوں میں طلب کیا جاتا ہے اور اگر ہڑتال کا دن ہو تو انہیں سارا تھانے میں ہی گزارنا پڑتا ہے۔

بابر جان قادری نے دیگر دو ساتھیوں کے ہمراہ حکومت سے حق معلومات کے قانون کے تحت گرفتاریوں اور عام معافی کے بارے میں جانکاری طلب کی تھی۔

اس کے ردعمل میں حکومت نے جو تحریری جواب دیا ہے اس کے مطابق جون دو ہزار دس سے بیس مارچ دو ہزار بارہ تک کُل پانچ ہزار پانچ سو تین افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے پانچ ہزار چار سو اڑسٹھ کو ضمانت پر رہا کیا جاچکا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ صرف چونتیس افراد پولیس حراست میں ہیں۔ اس جواب میں حکومت نے صاف لکھا ہے کہ کسی بھی کمسن بچے یا بالغ لڑکے کا مقدمہ خارج نہیں کیا گیا ہے۔

سرینگر کی ایک پسماندہ بستی پالہ پورہ کی رہائشی محبوبہ بیگم نے عدالت کے صحن میں ہی وزیراعلیٰ کی طرف سے عام معافی کے اعلان کو ایک مذاق قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارے بچوں کا مستقبل خراب ہوگیا۔ شرابیوں، جواریوں اور چوروں کو عدالتوں اور پولیس تھانوں میں نہیں بلایا جاتا۔ لیکن ہمارے معصوم بچوں کی آئے روز طلبی ہوتی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟‘

ایڈووکیٹ بابر قادری کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں اور مقدموں سے بچنے کے لیے سینکڑوں بچے وادی چھوڑ کرچلے گئے ہیں۔ ’حکومت بچوں کو تنگ کرتی ہے۔ ان کا مستقبل خراب ہورہا ہے۔‘

سکول سے براہ راست عدالت پہنچنے والے ایک طالب علم نے بتایا ’میں سکول کی طرف سے بنگلور اور ممبئی کی سیر کے لیے نہیں جاسکا۔ پولیس والوں نے میرے والد سے کہا ہے کہ اگر میں کسی پیشی سے غیر حاضر رہا تو دوبارہ گرفتار کیا جاؤں گا۔‘

کشمیر میں سرگرم انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ کمسن بچوں کو مختلف مقدمات میں الجھانا یا انہیں گرفتار کرنا ان میں انتقامی جذبات پیدا کرسکتا ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم معروف وکیل عبدالرشید ہانجورا کہتے ہیں ’حالات اس طرح قابو نہیں ہوتے۔ بچوں کو آزادی کا احساس دینا ضروری ہے۔ اگر یہ ہر طرف قید و بند ہے تو وہ باغی بن سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں