دلی، فوج کے سربراہ کے خلاف مقدمہ

جنرل وی کے سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل وی کے سنگھ اور اور وزارت دفاع کے درمیان کافی دنوں سے کشیدگی ہے

بھارتی دارالحکومت دلی کی ایک عدالت میں فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا گيا ہے۔

عدالت نے اس کی اگلی سماعت کے لیے دس اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔

تیجندر سنگھ نے اپنے سابق ساتھی جنرل وی کے سنگھ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ان کے خلاف مستقل غلط بیانی سے کام لیا ہے اس لیے وہ عدالت سے انصاف چاہتے ہیں۔

عدالتی کارروائي کے بعد تیجندر سنگھ کے وکیل انیل اگروال نے نامہ نگاروں کو بتایا ’عدالت نے شکایت کا بظاہر نوٹس لے لیا ہے اور دس اپریل کو جنرل وی کے سنگھ کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد مزید کارروائی کی جائےگي۔‘

تیجندر سنگھ کا کہنا ہے کہ جنرل وی کے سنگھ نے اس مہینے میڈیا میں بیان جاری کیا تھا کہ جس میں انہوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ فوج کی طرف سے وزارت دفاع کے فون ریکارڈ کرنے کے متعلق غلط افواہیں وہ ( تیجندر سنگھ ) پھیلا رہے ہیں۔

ان کے وکیل انیل اگروال نے کہا کہ پانچ مارچ کو ’فوج نے جو بیان جاری کیا تھا وہ نا صرف غلط بلکہ اصول و ضوابط کے بھی خلاف تھا‘۔

’پہلے مسٹر سنگھ نے کہا تھا کہ تیجندر سنگھ نے انہیں پچاس کروڑ روپے کی رشوت پیش کی تھی۔ لیکن پھر انہوں نے یہ رقم کم کرکے چودہ کروڑ کر دی۔ اگر اس میں کچھ بھی سچ ہوتا تو رقم میں بار بار تبدیلی نہیں ہوتی۔‘

تیجندر سنگھ نے فوج کے ان دیگر اعلیٰ افسروں کے خلاف بھی شکایت کی ہے جو مسٹر سنگھ کے قریب مانے جا رہے ہیں اور کہا ہے کہ بعض سینیئر حکام اپنے عہدے کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

بھارتی فوج کے سربراہ نے حال ہی میں الزام عائد کیا تھا کہ انہیں خراب ٹرک خریدنے کے لیے چودہ کروڑ روپے کی رشوت پیش کی گئی تھی۔

انہوں نے وزیراعظم کو ایک خط لکھ کر اس بات کی بھی شکایت کی تھی کہ بھارتی فوج کے پاس اچھی کوالٹی کا اسلحہ نہیں ہے اور بہت سے فوجی ساز و سامان کی کمی ہے۔

سابق جنرل تیجندر سنگھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنرل وی کے سنگھ سے ملاقات ضرور کی تھی لیکن رشوت پیش کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

اسی بارے میں