فوج کے سربراہ مصالحت کی راہ پر

فوجی سربراہ وی کے سنگھ
Image caption بھارتی فوج کے سربراہ وی کے سنگھ نے الزام عائد کیا تھا کہ فوجی سازوں سامان کی خریدارای میں گھپلا ہوا ہے

بھارت میں بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے گزشتہ کئی روز سے حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کے بعد مصالحت کا راستہ اختیار کیا ہے ۔

جمعہ کو دیئےگئے ایک بیان میں جنرل سنگھ نے میڈیا پر الزام عائد کیا ہے وہ موجودہ صورتحال کو فوج کے سربراہ اور وزیر دفاع کے درمیان ٹکراؤ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

اس دوران سی بی آئی نے فوجی ٹرکوں کے ایک سودے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

جنرل سنگھ نے الزام عائد کیا تھا کہ اس ٹر ک کی خریداری کی منظوری دینے کے عوض میں انہیں چودہ کروڑ روپے کی رشوت دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔

گزشتہ کئی دنوں سے وزیر دفاع اور کئی موجودہ اور سابقہ فوجی افسروں پر بالواسطہ اور براہ راست نکتہ چینیوں اور الزامات کے بعد بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے آج اپنا لب و لہجہ یک لخت بدل دیا ہے ۔

جنرل سنگھ نے اپنے نئے بیان میں کہا کہ شرارتی عناصر وزیر دفاع اور بری فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔’انہوں نے کہا کہ ہمیں شرارتی عناصر سے بچنے کی ضروررت ہے۔‘

جنرل سنگھ نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویومیں کہا تھا کہ انہیں ایک دفاعی سودے کی منظوری کے لیے چودہ کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس کی شکایت انہوں نے فوراً وزیر دفاع اے کے اینٹونی سے کی تھی ۔ آج انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی مسٹر اینٹونی نے ان سے بات چیت کے بعد اس طرح کی بدعنوانی روکنے کے لیے کچھ ادارہ جاتی اقدامات کیے تھے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ کہ رشوت کی پیشکش کا یہ پرانا معاملہ ہے اس لیے انہیں دوبارہ بتانا پڑا کیونکہ متعلقہ لابسٹ اس مہینے دوبارہ سرگر م نطر آ رہا تھا۔

وزیر اعظم کو لکھے گئے اپنے خط کے افشا ہونے کے بارے میں بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ اس خط کے کچھ مخصوص حصے ہی کو لیک کیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’خواہ انہیں اپنے دامن میں جھانکنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ملک کی خدمت کرنے اور فوج کے وقار کا تحفظ کرنے کے پابند ہیں۔‘

اس دوران مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی نے ایک مخصوص فوجی ٹرک کی خریداری کے سلسلے میں ایک مقدمہ درج کرنے کے بعد اس کی تفتیش شورع کر دی ہے ۔

جنرل سنگھ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ایک اعلی فوجی افسر نے جو حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں ایک مخصوص فوجی گاڑی کی خریداری کے لیے لابی کر رہے تھے ۔

انہون نے چھ سو ٹرکوں کی خریداری کے لیے جنرل سنگھ کو مبینہ طور پر چودہ کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی تھی۔

لابسٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس میں برائی کیا ہے ۔ سبھی پیسے لیتے ہیں اور ان کے بعد بھی لیتے رہیں گے ۔ جنرل سنگھ کا کہنا کہ یہ ٹرک خراب میعار کا ہے اور اس کی سروس کا ملک میں کوئی مناسب انتظام بھی نہیں ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی فوج اس ساخت کے سات ہزار ٹرک پہلے ہی خرید چکی ہے ۔

اس دوران بی جے پی نے موجودہ تنازع کے لیے وویر دفاع اے کے اینٹونی سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا ہے ۔

اسی بارے میں