فوج کے نامزد سربراہ کے خلاف درخواست

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption درخواست میں فوجی سربراہ کے عہدے کے لیے برکم سنگھ کی اہلیت پر سوال اٹھائے گئے ہیں

بھارت میں بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ بیانات اور الزامات سے فوج تنازعہ میں گھری ہوئی تھی کہ اب ان کے نامزد جانشین لیفٹنٹ جنرل بکرم سنگھ بھی تنازعہ کے شکار ہوگئے ہیں۔

اب کئی سابق اعلیٰ سرکاری اور فوجی اہلکارون نے بری فوج کے اگلے نامزد سربراہ کے خلاف سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست داخل کی ہے ۔

اس درخواست میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کو بری فوج کے سربراہ کے عہدے پر مامور ہونے سے روکا جائے۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ فوج کے اعلی ترین عہدے کے لیے ان کا انتخاب سیاسی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے۔

ساٹھ صفحات پر مشتمل اس درخواست پر سرکردہ شخصیات کے ساتھ ساتھ بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل رام داس اور سابق الیکشن کمشنر این گوپالا سوامی نے بھی دستخط کیے ہیں۔

مفاد عامہ کی اس عذرداری میں درخواست گزاروں نے تین واقعات کا ذکر کیا ہے جو بقول ان کے لیفٹینٹ جنرل بکرم سنگھ کے ماضی کے کردار کے بارے میں شکوک پیدا کرتے ہیں۔

پہلے واقعے میں بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں ایک جعلی تصادم کا ذکر ہے۔ اس واقعے میں ایک نوجوان لڑکے کی ماں نے ریاستی ہائی کورٹ میں ایک درخواست داخل کی تھی جس میں کہا گيا تھا کہ ان کا لڑکا یومیہ اجرت پر کام کرتا تھا اور اسے اننت ناگ ضلعے میں غیر ملکی شدت پسند بتا کر مار دیا گيا تھا۔

بکرم سنگھ اس وقت بریگيڈیئر تھے اور اس مقابلے کے لیے انہیں بہادری کا ایواڈ بھی دیا گیا تھا۔ حال ہی میں ہائي کورٹ میں داخل کیے گئے ایک بیان میں وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یہ تصادم حقیقی تھا۔

عذرداری میں کہا گيا ہے کہ لیفٹنٹ جنرل بکرم سنگھ بری فوج کے سربراہ بننے کے اہل کس طرح ہو سکتے ہیں جب ان کے خلاف مجرمانہ نوعیت کا مقدمہ چل رہا ہے۔

دوسرے واقعے میں دو ہزار آٹھ میں کانگو میں بکرم سنگھ کی قیادت میں امن فوج کے اکاون فوجیوں کے ذریعے مقامی لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزامات کی انکوائری کا ذکر ہے۔

ان پر الزام ہے کہ وہ ان فوجیوں کو مقامی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور مقامی لوگوں سے گھلنے ملنے سے روکنے میں ناکام رہے۔ درخواست میں کہا گيا ہے کہ فوج کی داخلی انکوائری کی رپورٹ ابھی تک نہیں آئي ہے۔

عذرداری میں تیسری دلیل یہ دی گئی ہے کہ بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں عدالت عظمی نے کوئي فیصلہ نہیں سنایا ہے اس صورت میں انہیں کس طرح جانشین مقرر کیا جا سکتا ہے۔موجودہ سربراہ جنرل وی کے سنگھ مئی کے اواخر میں سبکدوش ہورہے ہیں۔

جنرل سنگھ نے حال ہی میں الزام لگایا تھا کہ انہیں ایک دفاعی سودے کے لیے چودہ کروڑ روپے کی پیش کش کی گئی تھی۔

گزشتہ روز ایک اخبار نے یہ خبر دی دی تھی گزشتہ جنوری میں جنرل سنگھ کی تاریخ پیدائش کے سوال پر کشیدگي کے عروج کے دوران بھارتی فوج کے دو دستے مشکوک انداز میں دلی کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ بری فوج کے سربراہ نے اس خبر کو بےبنیاد قرار دے کر اسے مسترد کر دیا تھا۔

اسی بارے میں