یرغمالیوں کے بدلے ماؤنوازوں کی رہائی کا فیصلہ

 اطالوی شہری
Image caption اطالوی شہری پولو ماؤنوازوں کے قبضے میں ہیں

بھارتی ریاست اڑیسہ کی حکومت نے یرغمال بنائےگئے اطالوی سیاح اور ایک رکن اسمبلی کی آزادی کے بدلے میں ستائيس افراد کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ جن افراد کو جیل سے رہا کیا جائیگا اس میں آٹھ ماؤنواز باغی اور دیگر انیس ان سے ہمدردی رکھنے والے لوگ ہیں۔

گزشتہ کئي روز سے ریاستی اسبملی کے ایک رکن جھینا ہکاکا اور ایک اطالوی سیاح نکسلیوں کے قبضے میں ہیں۔

ریاست کے وزير اعلی نوین پٹنائیک نے ریاستی اسمبلی اس بارے میں ایک بیان دیتے ہوئے اس کا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا ’ ہکاکا کے تحفظ کے مدنظر ریاستی حکومت نے چاسی مولیا سنگھا قبیلے کے پندرہ افراد اور کوراپٹ ملکان گری کی جیلوں میں قید بائیں بازو کے آٹھ انتہا پسندوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

وزیر اعلی نے ایک بار پھر ایک ساتھی رکن اسمبلی کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جب تک ماؤنوازوں کی طرف سے تشدد کی کارروائی نہ کی جائے تب تک حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گي۔

اطلاعات کے مطابق ماؤنوازوں کی طرف سے جو افراد حکومت سے مذاکرات کر رہے تھے وہ حکومت کے اس اعلان سے خوش نہیں ہیں۔

ان کی طرف سے تیرہ اہم مطالبات پیش کیے گئے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے ان میں سے بیشتر کو مسترد کر دیا ہے۔

ماؤنوازوں کے ایک گروپ نے کئی روز قبل دو اطالوی سیاحوں کو اغوا کر لیا تھا اور پھر بعد میں ایک دوسرے گروپ نے ریاستی اسمبلی کے ایک رکن جھیناہکاکا کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اس میں سے ایک اطالوی سیاح کو رہا کر دیا گيا تھا لیکن دوسرے سیاح پولو بوسیکیو کی رہائي کے لیے ماؤنوازوں نے کئی شرائط رکھی تھیں جس کے لیے کئی دنوں سے مذاکرات جاری تھے۔

ماؤ نواز باغیوں نے چودہ مارچ کوحکمراں جماعت بیجو جنتا دل کے رکن اسبملی جھینا ہکاکا کو دارالحکومت بھبنیشور سے تقریباً چھ سو کلومیٹر دور تایا پوٹ کے گھنے جنگلات سے اغوا کیا تھا اور اس کارروائی میں تقریباً سو باغیوں نے حصہ لیا تھا۔

اڑیسہ میں ماؤ نواز باغیوں نےحکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ علاقے میں ان کے خلاف آپریشن بند کیا جائے اور حکومت ان کے بعض ساتھیوں کو رہا کرے۔

اسی بارے میں