پاک بھارت، نشیب و فراز سے بھرپور تعلقات

Image caption بھارتی میڈیا پاکستانی صدر کے بھارتی دورے کے بارے میں نہایت پرجوش ہے۔

جیسا کہ جنوبی ایشیا کے ماہر سٹیفن کوہن نے اپنے ایک تازہ مضمون میں لکھا ہے کہ امید ایک پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی ناامیدی، ایسا ہی بھارت اور پاکستان کے تعلقات کے بارے میں کہا جا سکتا ہے۔

گزشتہ چند دنوں میں یہ ثابت ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کس قدر نازک ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ بھارت نے اتوار کو پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے دورے کا خیرمقدم کیا ہے (جو کہ گزشتہ سات برس میں کسی بھی پاکستانی صدر کی جانب سے بھارت کا پہلا نجی دورہ ہے) اور اسی دوران امریکہ نے کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی تلاش میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا ہے۔

لیکن لوگ امید پر ہی اپنی زندگیاں گزارتے ہیں تاہم بھارتی میڈیا پاکستانی صدر کے بھارتی دورے کے بارے میں نہایت پرجوش ہے۔

ان کے بقول پاکستانی صدر کو بھارت کے خلاف تجارتی تفریق ختم کرنے، پٹرولیم برآمدات کو آسان بنانے اور ویزوں کی باآسان فراہمی کے لیے اقدامات کرنے پر سراہا جانا چاہیے۔

بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ’صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں بھارت اور پاکستان کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ ایک غیر معمولی اقتصادی تعاون کے بارے میں سوچ وچار کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیرِاعظم کے پاس تمام تر وجوہات ہیں کہ وہ پاکستانی صدر کے دورے کا خیرمقدم کریں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات پر توجہ دیں۔‘

تجزیہ کار راجا موہن سمجھتے ہیں کہ صدر زرداری کے دورے کے بعد بھارتی وزیرِاعظم کو بھی پاکستان کے دورے پر جانا چاہیے۔ ان کے بقول ’منموہن سنگھ کو یہ بات پاکستانی صدر تک پہنچانی چاہیے کہ وہ اسی رفتار اور اسی حد تک قدم بڑھانے پر آمادہ ہیں جس حد اور رفتار تک صدر زرداری جانے کو تیار ہیں۔‘

دوسری جانب جیوتی ملہوترا جیسے دیگر تجزیہ کاروں کی نظر میں صدر زرداری کے اس مشکل وقت میں اجمیر شریف جانے کے فیصلے کی بہت سی علامتیں ہیں۔ جیوتی ملہوترا کے بقول یہ صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے اجمیر شریف جانے کے لیے پاکستان اور بھارت کی تلخ تاریخ میں سے ’ایک پر تخیل مرحلہ چنا ہے‘۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے آپس میں تعلقات پیچیدہ ہیں۔ سنہ دو ہزار دس کے پیو سروے کے مطابق، تریپن فیصد پاکستانی جواب دینے والوں کے خیال میں بھارت، ملک کے لیے طالبان اور القاعدہ سے زیادہ خطرناک تھا۔ جبکہ 72 فیصد کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا ضروری ہے اور 75 فیصد کا خیال تھا کہ بھارت کے ساتھ بات چیت اور تجارتی تعلقات میں اضافہ ہونا چاہیے۔

سٹیفن کوہن جیسے ماہرین کے مطابق ’پاکستان کو بھارت کے ساتھ پالیسی میں واضح تبدیلی لانے کے لیے پاکستانی فوج کی اطاعت، مستحکم سیاسی قیادت اور روشن خیال وزرائے خارجہ کی ضرورت ہے‘۔

لیکن فی الحال ایسا کچھ بھی ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

دونوں ممالک کی حکومتیں اس قدر کمزور ہیں کہ ان کا کسی قسم کے اعتماد پر مبنی تعمیراتی اقدامات کی جانب جانا نہیں ہوتا۔ ان حالات میں صدر زرداری کے دورے کو اس سمت ایک چھوٹا سا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

اور جیسا کہ کانتی باجپائی جیسے دانشوروں کا کہنا ہے کہ بھارت کو اس دوران صبر سے کام لینا ہوگا اور اگر ممبئی جیسا ایک اور حملہ ہوتا بھی ہے، تب بھی پاکستانی حکومت اور فوج کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی چاہیے اور سیاچن اور سر کریک جیسے پرانے مسائل کو ٹھیک کرنے کی کوششیں کی جانی چاہییں۔

کیونکہ ناامیدی، نشیب و فراز سے بھرپور تعلقات کا حل نہیں ہے۔

اسی بارے میں