'بھارت کشمیر پر رعایت نہیں دے گا'

آصف علی زرداری تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption آصف علی زرداری اتوار کو بھارت کے دورے پر آرہے ہیں

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری ایک ایسے وقت میں میں بھارتی قیادت کے ساتھ ملاقات کررہے ہیں جب بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مسلح تشدد تقریباً ختم ہوچکا ہے، پولیس کی پابندیوں نے عوامی مظاہروں کو ناممکن بنا کے رکھ دیا ہے اور خود پاکستان کے اندر حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

عوامی سطح پر صدر زرداری کے دورے سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں کسی پیش رفت کی اُمید نہیں ہے، لیکن کچھ حلقے سمجھتے ہیں یہ دورہ کشمیر کے حالات میں کسی خوشگوار تبدیلی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

کشمیریونیورسٹی میں قانون کے پرفیسر شیخ شوکت حسین کہتے ہیں کہ ’بھارت کو ڈر ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے جانے کے بعد کہیں کشمیر میں دوبارہ مسلح تشدد نہ بھڑک اُٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو کم سے کم رعایات دے کر خوش کرنے کے منصوبے پر عمل ہورہا ہے۔’مسٹر حسین کے مطابق یہ طے کرنا ابھی مشکل ہے کہ پاکستان کو بھارت سے ملنے والی سیاسی رعایت خالص پاک۔بھارت تعلقات سے متعلق ہوگی یا اس میں کشمیر بھی اہم فیکٹر ہوگا۔

سینئیر صحافی اور روزنامہ چٹان کے مدیر طاہر محی الدین کہتے ہیں کہ آج کل پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے مسئلہ کشمیر سے متعلق وہی مؤقف اختیار کیا ہے جو سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف نے کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی پارٹیوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات تب تک بحال نہیں ہوسکتے جب تک وہ مسلہ کشمیر پر پیش رفت نہیں دکھاتا۔ ’لیکن مسئلہ کشمیر التوا میں ہے اور پاکستان نے تجارتی حوالے سے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیا ہے اور تجارت بھی شروع ہوگئی ہے۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران صدر زرداری وزیراعظم منموہن سنگھ کو کسی نہ کسی رعایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کرینگے۔ طاہر محی الدین کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ دوستی پر پاکستانی فوج اور وہاں کی مذہبی جماعتوں کی مخالفت کم کرنے کے لئے صدر زرداری کو بھارت کی جانب سے کچھ رعایت کی اشد ضرورت ہوگی۔ ’ہوسکتا ہے کہ منموہن سنگھ کی حکومت نے کچھ طے کرلیا ہو، اور اسی رعایت کا اعلان کرنے کے لئے بھارتی وزیراعظم پاکستان کا دورہ کریں۔‘

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تجارتی اور سفارتی تعلقات کی بحالی سے متعلق یہاں کے سیاسی حلقے الگ الگ آراء رکھتے ہیں۔

علیٰحدگی پسندوں کے سخت گیر دھڑہ جس کی قیادت سید علی گیلانی کر رہے ہیں، پاکستان کی طرف سے بھارت کو یکطرفہ رعایات دینے پر فکرمند ہے۔ مسٹر گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر پاکستان نے کشمیر سے متعلق روایتی مؤقف کو تبدیل کیا تو ہم پاکستان بھر میں تحریک چلائینگے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی مرضی کے بغیر دونوں ممالک نے مسئلہ کشمیر کا کوئی من پسند حل سامنے لایا بھی تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔

لیکن میر واعظ عمرفاروق کی قیادت والے اعتدال پسند دھڑے نے پاک۔بھارت تعلقات میں بہتری کو خوشگوار تبدیلی قرار دیا ہے۔ میرواعظ نے اسلامی ممالک کی تنظیم کے حالیہ اجلاس سے اپنے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ اگر کشمیری قیادت کو حتمی بات چیت میں شامل کیا جائے تو وہ مسئلہ کشمیر میں عالمی مداخلت کا مطالبہ ترک کر دینگے۔

عالمی سیاست اور کشمیر پر تحقیق کر نے والے نوجوان خالد وسیم کا کہنا ہے کہ بھارت نے پرویز مشرف کے دور میں بھی پاکستان کی یکطرفہ رعایات پر سردمہری کا مظاہرہ کیا۔ مسٹر وسیم کہتے ہیں کہ’اُس وقت پاکستان میں حالات ٹھیک تھے، یہاں بھی لوگ ایک تبدیلی چاہتے تھے۔ لیکن بھارت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور صرف چار سال بعد کشمیر میں غیر مسلح احتجاجی مظاہروں کی لہر چلی۔‘

تاہم خالد وسیم کو توقع ہے کہ ’بھارت اب کشمیر کی زمینی صورتحال پر غور کر رہا ہے، اور صدر زرداری کے ساتھ ملاقات کے دوران چھوٹی ہی سہی، لیکن کسی سیاسی پیش رفت کا امکان ہے۔‘

واضح رہے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کشمیر میں بائیس سالہ کشیدگی کے دوران ستّر ہزار سے زائد افراد مارے گئے۔ مقامی انسانی حقوق اداروں کا کہنا ہے کہ آٹھ ہزار افراد فوج اور دوسری فورسز کی حراست کے دوران لاپتہ ہوگئے۔ ڈیڑھ ہزار خواتین کے خاوند بھی گمشدہ ہیں، جنہیں اب ہاف وِڈو یعنی ’آدھی بیوہ‘ کہا جاتا ہے۔ گزشتہ چند سال کے دوران غیرمسلح احتجاج کو دبانے کے لئے پولیس کی کارروائیوں میں ایک سو بیس افراد مارے گئے جن میں اکثر آٹھ سے سولہ سال کی عمر کے بچے تھے۔ اس صورتحال کی وجہ یہاں کے اکثر عوامی حلقے آزادی یا مسئلہ کشمیر کے مباحث میں سرگرم رہنے کی بجائے حصولِ انصاف کے مطالبہ پر مُصر ہیں۔

اسی بارے میں