’اہم باہمی مسائل پر بات چیت تعمیری رہی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منموہن سنگھ نے پاکستانی صدر آصف علی زرداری کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی پاکستان جائیں گے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ دلی میں وزیراعظم منموہن سنگھ اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات میں باہمی تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے مسئلہ کشمیر، سرکریک، سیاچن، دہشتگردی کے خاتمے اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے جیسے مسائل پر بات چیت ہوئي ہے۔

وزیراعظم من موہن سنگھ اور صدر زرادری نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سب ہی اہم باہمی مسائل پر ہونے والی بات چیت ’تعمیری‘ رہی ہے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد بھارت کے سیکرٹری خارجہ نے ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے مسائل پر بات چيت کی جو ایک ایسا اہم مسئلہ ہے جس میں ہوئی پیش رفت سے بھارتی عوام دو طرفہ رشتوں میں پیش رفت کا فیصلہ کریں گے۔

’ملاقات میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے صدر زرداری کو بتایا کا ممبئی میں ملوث حملہ آوروں کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور پاکستان کی سرزمین سے بھارت مخالف سرگرمیاں بند ہونی چاہیئیں۔‘

سیکرٹری خارجہ کے بقول ’اسی سلسلے میں وزیراعظم نے حافظ سعید کی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ اس معاملے پر دونوں حکومتوں کو مزید بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات پر توجہ دی گئی کہ دونوں ملکوں کے داخلہ سیکریٹریز جلد ہی ملاقات کریں گے اور وہ اس پر مزید بات چيت کریں گے۔‘

بھارتی خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي کے مطابق صدر زرداری نے بھی بھارت کے سامنے بعض اہم مسائل اٹھائے اور کہا کہ سر کریک، سیاچن اور کشمیر جیسے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور فریقین نے یہ محسوس کیا کہ ان سبھی مسائل پر قدم بہ قدم آگے بـڑھنے کی ضرورت ہے۔

دونوں ملکوں نے فیصلہ کیا ہے کہ گزشتہ برس جو مذاکرات شروع کیے گئے تھے انہیں جاری رکھا جائے گا اور اس کے دائرے کو مزید وسعت دی جائے گی۔

اس سے پہلے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ایک روزہ بھارتی دورے کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد دونوں رہنما‎ؤں نے کہا ہے کہ ان کی بات چیت ’تعمیری‘ رہی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نجی دورے پر اتوار کی دوپہر دّلی پہنچے تھے جس کے بعد انہوں نے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

تقریباً آدھے گھنٹے جاری رہنے والی اس بات چیت کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سب ہی اہم باہمی مسائل پر بات چیت کی ہے۔

اسی دوران صدر آصف علی زرداری نے منموہن سنگھ کو پاکستان آنے کی دعوت دی جو منموہن سنگھ نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی ایسی تاریخ پر، جس پر دونوں ممالک متفق ہوں، پاکستان جائیں گے۔

اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’ہم نے سب ہی باہمی مسائل پر تعمیری بات چیت کی ہے۔ بھارت اور پاکستان پڑوسی ہیں اور ہم چاہیں گے کہ ہمارے درمیان بہتر رشتے ہوں۔ ہم نے ان سب ہی موضوعات پر بات چیت کی جن پر کر سکتے تھے۔‘

صدر زرداری نے کہا ’میں امید کرتا ہوں کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ سے میری اگلی ملاقات جلد ہی پاکستان میں ہو گی۔‘

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کا کہنا تھا ’حالانکہ صدر زرداری نجی دورے پر بھارت آئے ہیں لیکن میں نے اس دورے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے سب ہی اہم باہمی مسائل پر بات چیت کی ہے۔ میں بات چیت کے نتائج سے بہت مطمئن ہوں۔ بھارت اور ہندوستان کے رشتے ’نارمل‘ ہونے چاہئیں۔ ہمارے درمیان بہت سے مسائل ہیں اور ہم ان کو حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آصف علی زرداری اجمیر میں واقع خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کی زیارت کے لیے ایک روز کے نجی دورے پر بھارت آئے۔

اس سے قبل صدر آصف علی زرداری ایک بڑے قافلے کے ساتھ دلی پہنچے تھے تاہم دلی کے پالم ایئر پورٹ پر ان کے استقبال کے لیے بھارت کے پارلیمانی امور کے وزیر پون کمار بنسل موجود تھے۔ وہ گزشتہ سات برس میں بھارت کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی سربراہِ مملکت ہیں۔

اگرچہ صدر زرداری اجمیر میں واقع خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کی زیارت کے لیے ایک روز کے نجی دورے پر بھارت آئے لیکن وزیر اعظم نے اس موقع پر انہیں ظہرانے پر مدعو کیا۔

واضح رہے کہ دونوں رہنمائوں کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو ئی ہے جب آئندہ ہفتے واہگہ سرحد پر تجارت کے لیے دوسرا گیٹ کھلنے والا ہے۔ سنہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور رفتہ رفتہ مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آئندہ دنوں میں بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا بھی اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔

صدر زرداری کے بھارت آنے سے پہلے دلی کے ذرائع ابلاغ میں یہ بحث بھی ہو رہی تھی کہ دونوں رہنماء لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید کے بارے میں بات چیت کریں گے یا نہیں۔ حالانکہ دونوں رہنماؤں نے پریس سے خطاب کرتے ہوئے ایسا اشارہ نہیں دیا کہ انہوں نے حافظ سعید سے متعلق بات چیت کی ہے۔

صدر آصف علی زرداری کے ایک روزہ بھارتی دورے کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد اجمیر میں واقع خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کی زیارت کی اور وہاں سے پاکستان کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔

اجمیر میں موجود بی بی سی کے نامہ ودھانشو کمار کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے اپنے بیٹے بلاول اور اپنے وفد کے ساتھ درگاہ پر چادر چڑھائی اور دعا مانگی۔

اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ صدر زرداری نے خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے لیے دس لاکھ ڈالر عطیہ کے طور پر دیے ہیں حالانکہ ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔

اسی بارے میں