پاکستانی قیدی خلیل چشتی کی ضمانت منظور

Image caption سپریم کورٹ ان کے کراچي جانے سے متعلق عرضی پر سماعت کے تیار ہے

بھارتی سپریم کورٹ نے اجمیر کی ایک جیل میں قید بزرگ پاکستانی پروفیسر کی ضمانت منظور کر لی ہے لیکن ابھی انہیں پاکستان جانے کی اجازت نہیں ملی۔

اکیاسی برس کے مائيکرو بائیلوجسٹ خلیل چشتی قتل کے جرم میں اجمیر کی جیل میں قید ہیں۔

ڈاکٹر خلیل کو قتل کے ایک مقدمے میں اجمیر کی ایک عدالت نے انیس برس تک سماعت کے بعد جنوری دو ہزار گيارہ میں عمر قید کی سزا سنائی تھی تب سے وہ جیل میں ہیں۔

اس سے پہلے ریاست راجستھان کی ہائي کورٹ نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں صدر زرداری کے بھارتی دورہ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں انسانی بنیادوں پر ضمانت دی ہے اور کہا کہ خیر سگالی کے اقدامات جاری رہنے چاہیں۔

جب مسٹر چشتی کے وکیل نے ان کے کراچی جانے کے متعلق بات کی تو جج نے کہا کہ ابھی انہیں صمانت پر رہا کیا جا رہا ہے اور ملک سے باہر جانے کے متعلق انہیں الگ سے عرضی دینی ہوگي اور عدالت اس پر سماعت کے لیے تیار ہے۔

ڈاکٹر خلیل پاکستانی شہری ہیں اور سنہ انیس سو بانوے میں وہ اپنے بھائی اور والدہ سے ملنے کے لیے اجمیر آئے ہوئے تھے۔

اجمیر میں ان کے بھائی کی رہائش گاہ پر خاندان کے کچھ لوگوں میں لڑائی ہوگئی۔ لڑائی کے دوران کسی نے گولی چلا دی جس سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ چونکہ اس وقت موقع پر ڈاکٹر خلیل بھی موجود تھے اس لیے ایف آئی آر میں ان کا نام بھی درج کر لیاگیا۔

مقدمے کے بعد انہیں ضمانت پر رہائی مل گئی تھی لیکن پاکستانی شہری ہونے کے سبب ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیاگیا تھا اور انہیں انیس برس تک عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے ہر پندرہ دن بعد تھانے میں حاضری دینی پڑتی تھی۔

عمر رسیدہ پروفیسر انتہائی بیمار حالت میں ہیں۔ جب انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تو عدالت میں انہیں سٹیچر پر لایا گيا تھا اور پھر انہیں دو آدمیوں کی مدد سے جیل لے جایا گیا تھا۔

ڈاکٹر خلیل کو دل کا دورہ پہلے پڑا چکا ہے اور اس عمر میں وہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور جیل میں قید کے دوران ان کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے۔

پروفیسر خلیل نے کراچی یونیورسٹی سے مائیکروبائیولوجی میں ایم ایس سی کیا تھا اور اس کے بعد ایڈنبرا یونیورسٹی سے وائرولوجی میں پی ایچ ڈی کی تھی۔ انہوں نے کراچی کے علاوہ ایران، سعودی عرب اور نائجیریا میں بھی کئی برس درس و تدریس کا کام کیا اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

اسی بارے میں