’وزیراعلیٰ مودی کے خلاف ثبوت نہیں ملے‘

ذکیہ جعفری تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption محترمہ جعفری نے اس رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے

بھارت کی سپریم کورٹ کی مقرر کردہ ایک خصوصی تفبیشی ٹیم نے کہا ہے کہ گجرات میں فسادات کے دوران احدآباد کے گلبرگ رہائشی کمپلیکس میں 69 افراد کو ہلاک کرنے کے معاملے میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔

منگل کو احمدآباد کی ایک عدالت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم ’ایس آئی ٹی‘ کی رپورٹ میں درخواست گزار ذکیہ جعفری کو آئندہ تیس دنوں میں دینے کے احکامات جاری کیے اور کہا کہ خصوصی تفتیشی ٹیم نے اپنی رپورٹ سونپ دی ہے۔

یہ ہدایات جاری کرتے وقت عدالت نے کہا’ ذکیہ جعفری نے اپنی شکایت میں جن اٹھاون افراد کے نام لیے ہیں، ایس آئی ٹی نے جرم میں ملوث ہونے کا ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں پیش کیا ہے۔‘

عدالت نے کہا’ اس لیے سپریم کورٹ کے احکامات اور انصاف کے اصول کے تحت تفتیشی رپورٹ کی ایک کاپی اور اس سے متعلق دستاویزات درخواست گزار کو ملنی چاہیں۔‘

عدالت نے کہا کہ چونکہ ذکیہ جعفری نے خود رپورٹ کے لیے عدالت میں درخواست دی تھی اس لیے نوٹس جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ محترمہ جعفری نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

’اس بات کے احکامات دیے جاتے ہیں کہ تفتیشی رپورٹ کی کاپی، گواہوں کے بیانات اور متعلقہ دستاویزات اگلے تیس دن کے اندر انہیں مہیا کیے جائیں۔‘

اس سے قبل ایک مقامی عدالت نے ایس آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ ذکیہ جعفری کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس سے قبل سماجی کارکنوں اور مقتول رکن پارلیمان احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں گجرات فسادات کیس پر تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کی کاپی فراہم کی جائے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نےگلبرگ سوسائٹی کے قتل عام کیس کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی تھی۔

اس کے بعد سے ہی یہ قیاس آرائی زور و شور سے جاری تھیں کہ تفتیشی ٹیم نے ریاست کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو ’کلین چٹ‘ دے دی ہے۔ لیکن اب عدالت نے ہی اس رپورٹ عام کے اہم پہلوؤں کو عام کر دیا ہے۔

احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی میں فسادات کے دوران کانگریس کے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری سمیت انہتر افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔

احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کا مطالبہ تھا کہ اس کیس میں وزیراعلیٰ نریندر مودی اور کئی دیگر اعلیٰ سرکاری افسران کو بھی ملزم بنایا جانا چاہیے۔ بقول ان کے نریندر مودی نے دانستہ طور پر فسادات کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

ذکیہ جعفری نے جب اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو عدالت نے اپنی نگرانی میں ایس آئی ٹی سے تفتیش کرانے کا فیصلہ کیا۔

اسی بارے میں