’پاکستانی قیدیوں کو وطن واپس بھیجا جائے‘

Image caption سپریم کورٹ نے حکومت کو تین ہفتے کا وقت دیا ہے

بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ تمام پاکستانی قیدی جنہوں نے اپنی سزا مکمل کر لی ہے انہیں ان کے وطن بھیجنے کے جلد انتظام کیے جائیں۔

اس میں کئی وہ پاکستانی قیدی بھی شامل ہیں جو ذہنی طور پر معذور ہیں۔

سپریم کورٹ نے یہ احکامات ان اکیس قیدیوں کے مقدمے کی سماعت دوران دیے جن میں سولہ ذہنی طور پر معذور ہیں اور پانچ قوت سماعت سے محروم ہوچکے ہیں۔

عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ آئندہ تین ہفتوں میں اس بات کا جواب دے کہ وہ ان قیدیوں کی ان کے وطن کی واپسی کے لیے کیا کر رہی ہے۔ اس کی اگلی سماعت دو مئي کو ہوگي۔

عدالت نے کہا ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیٹینشن سینٹرز میں ان قیدیوں کو بہتر سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں لیکن انہیں واپس کیوں نہیں بھیجا جا رہا ہے۔ آخر پریشانی کیا ہے؟ ایسی حراستیں ہمیں تکلیف دیتی ہیں۔‘

عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے کہا ’ایسے کیسز کو سب سے زیادہ ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ وہ ذہنی طور پر معذور، بہرے اور گونگے ہیں۔ وہ اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔ انہیں پھر بھی جیل میں بعض مشکلات کے سبب رکھا گيا ہے لیکن ایساغیر معینہ مدت کے لیے تو نہیں کیا جا سکتا۔‘

مرکزی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ایسے افراد کی پوری طرح شناخت کے بغیر انہیں واپس نہیں بھیجا سکتا۔

’آپ ایسا آئندہ چھ ماہ یا ایک برس میں بھی کیسے کر پائیں گے۔ یہ مشکل یونہی جاری رہیگي۔ آپ ہمیں یہ ضرور بتائیں کہ اس کے لیے کیا کرنا چاہیے۔‘

اس سلسلے میں مفاد عامہ کی ایک عرضی پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب بھی دو ممالک کے اعلی حکام میں ملاقات ہو تو ایسے معاملات پر ترجیحی بنیادوں پر بات چیت ہونی چاہیے۔

حالیہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور منموہن سنگھ کے درمیان ملاقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بینچ نے کہا ’کیا ایسے معاملات کو اعلی سطح پر اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے جب سربرہان مملکت ملاقات کر رہے ہوں؟‘

مفاد عامہ کی یہ عرضی جموں کشمیر میں پینتھر پارٹی کے سربراہ پرفیسر بھیم سنگھ نے دائر کی تھی۔

انہوں نے عدالت کو ایسے قیدیوں کی تصاویر پیش کیں اور کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ یہ تصاویر پاکستانی حکومت کو مہیا کرے تاکہ انہیں پاکستانی اخبارات میں شائع کیا جائے اور ان افراد کی شناخت ہو سکے۔

اسی بارے میں