والد کی ستائی ہوئی بچی چل بسی

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈاکٹروں کے مطابق بچی کے جسم پر کئي چوٹیں تھیں

بھارت کے جنوبی شہر بنگلور میں مبینہ طور پر والد کی ستائی ہوئی تین ماہ کی بچی آفرین بدھ کی صبح ہسپتال میں انتقال کرگئی ہیں۔

بچي کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ صبح پونے گيارہ بجے آفرین کو دل کا دورہ پڑا تھا جنہیں بچایا نہیں جا سکا۔

بچي کی ماں ریشما بانو کا کہنا ہے کہ آفرین کے والد عمر فاروق ایک لڑکا چاہتے تھے اور وہ لڑکی کی پیدائش سے وہ خوش نہیں تھے اس لیے وہ اسے ستاتے رہتے تھے۔

ان کے اہل خانہ کے مطابق پیدائش کے بعد سے ہی عمر فاروق اپنی بچی کو مارتے پیٹے اور ستاتے تھے۔

پولیس نے دو روز قبل ہی اسی الزام کے تحت عمر فاروق کو گرفتار کیا تھا جنہیں عدالتی تحویل میں بھیجا گيا ہے۔ تاہم انہوں نے اس الزام سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کی ان کی بیوی ان پر ایسے الزامات کیوں لگا رہی ہیں۔

یہ بھی درست ہے کہ ماں ریشما بانو اس سلسلے میں میڈیا میں اپنا بیان بدلتی رہی ہیں لیکن ریشما ہی کی ماں یعنی عمر فاروق کی ساس نے یہ بات کئي بار دہرائی ہے کہ ان کا داماد اپنی ہی کم سن بچی کو ستاتا تھا۔

کہا جا رہا ہے کہ اس حوالے سے میاں بیوی کے درمیان کئی بار پہلے بھی لڑائی ہوئی تھی اور اس کی شکایت پولیس سے کی گئی تھی لیکن معاملہ رفع دفع ہوگيا تھا۔

اطلاعات کے مطابق بچی کو اندرونی چوٹیں آئی تھیں جس کے بعد ہی بہت ہی نازک حالت میں آفرین کو ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا۔

ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے پہلے جب بچی کو ہسپتال لایا گيا تو اس کے جسم پر چوٹوں کے نشانات تھے اور گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس کے دماغ کے اندر خون کا رساؤ بھی ہوا تھا۔

گزشتہ تین روز سے آفرین کی حالت تشویشناک تھی اور مصنوعی طریقے سے سانس فراہم کیا جا رہا تھا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی تمام کوششوں کے باوجود انہیں بچایا نہیں جا سکا۔

بھارت میں لڑکیوں کے مقابلے لڑکوں کو ترجیح دینا کوئی نئی بات نہیں ہے اور کئی بار اس کے لیے ماؤں کو بھی ستایا جاتا ہے۔

حال ہی میں ایسے ہی ایک واقعے میں دلی میں فلک نامی ایک بچی کی ہسپتال میں موت ہوگئی تھی جسے اس کے والدین نے راستے میں تن تنہا چھوڑ دیا تھا۔

چند روز قبل ریاست راجستھان کے ایک ہسپتال میں نو زائیدہ ایک بچی کو ایک لڑکے سے بدل دیاگيا تھا جس پر دو والدین کے درمیان تنازع پیدا ہوگيا تھا۔ بعد میں ڈی این ٹیسٹ کے بعد لڑکے کو اس کے اصلی والدین کو سونپا گيا۔

اسی بارے میں