ممتا کی تصویر: پروفیسر کی گرفتاری

فیس بک پر ممتا کی باتیں
Image caption مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی تنازعات میں پہلے بھی رہی ہیں۔

بھارتی ریاست مغربی بنگال میں پولیس نے انٹرنیٹ پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف ’توہین آمیز پیغامات‘ پھیلانے کے الزام میں ایک پروفیسر کو گرفتار کیا ہے۔

پروفیسر امبیکیش مہاپاترا ریاست کی جادھوپور یونیورسٹی میں کیمسٹری پڑھاتے ہیں اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ممتا بنرجی اور ریلوے کے سابق اور موجودہ وزراء کی کچھ تصاویر کے ساتھ ایسے کلمات انٹرنیٹ پر ڈالے ہیں جو توہین آمیز ہیں۔

کلکتہ کے نائب پولیس کمشنر سوجوئے چندا نے کہا کہ پروفیسرمہاپاترا کو کچھ عزت دار لوگوں کے خلاف توہین آمیز پیغامات پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

پروفیسر مہاپاترا پر مبینہ طور پر مغربی بنگال کی حکمران جماعت ترنمول کانگریس کے بعض کارکنوں نے جمعرات کی شام حملہ بھی کیا تھا۔

کلکتہ سے نامہ نگار امیتابھ بھٹہ سالی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پروفیسر مہاپاترا نے مبینہ طور پر ممتا بنرجی، وزیر ریلوے مکل رائے اور سابق وزیر دنیش ترویدی کی کمپیوٹر کے ذریعہ ترمیم شدہ تصاویر انٹرنیٹ پر ڈالی تھیں۔ یہ تصاویر چند روز پہلے سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹ فیس بک پر کافی مقبول ہوگئی تھیں۔

تصاویر اور ان سے منسلک کلمات کا بظاہر تعلق اس تنازعہ سے ہے جو ممتا بنرجی اور دنیش ترویدی کے درمیان حالیہ اختلافات کی وجہ سے کئی روز تک سرخیوں میں رہا تھا۔ دنیش ترویدی نے ریلوے کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کرایوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا لیکن ممتا بنرجی نے اپنی ہی جماعت کے وزیر کی تجاویز کو مسترد کر دیا تھا جس سے ملک میں ایک غیرمعمولی سیاسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔

آخر کار ممتا بنرجی نے دنیش ترویدی کو ریلوے وزیر کے عہدے سے ہٹوایا اور ان کی جگہ یہ ذمہ داری مکل رائے کو سونپی گئی۔

مصنفہ تسلیمہ نسرین اور جادھو پور یونیورسٹی کے استادوں اور دانشوروں نے پروفیسر مہاپاترا کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ اور فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی لوگ اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔