بھارت: بین البراعظمی میزائل کا تجربہ ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت طویل فاصلے تک مار کرنے والے انٹر کانٹیننٹل بلاسٹک میزائل اگنی پانچ کی آزمائش کی تیاری کر رہا ہے۔ پہلے یہ آزمائش آج شام ہونی تھی لیکن خراب موسم کی وجہ سے اسے جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

بدھ کی شام اگر اگنی پانچ میزائل کا تجربہ کامیاب رہتا ہے تو بھارت چین کے انتہائی شمالی حصوں سمیت پورے ایشیا اور بہت سے یورپی ممالک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیتا۔

اگنی پانچ کی لمبائی ساڑھے سترہ میٹر ہے اور اسے تیار کرنے پر ڈھائی ہزار کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔ اس میں ڈیڑھ ٹن وزن تک کے بم نصب کیے جا سکتے ہیں۔

اگنی پانچ جدید ترین اور انتہائی پیچیدہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور اسے اب سے چند ہی گھنٹوں بعد آزمائشی طور پر اڑیسہ کے وہیلر آئلینڈ کے قریب سے داغا جائے گا۔

اگر میزائل کامیابی کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچ جاتا ہے تو بھارت اس مخصوص گروپ میں شامل ہو جائے گا جس میں فی الحال امریکہ، روس اور چین کا شمار کیا جاتا ہے۔

اگنی پانچ میزائل کا وزن پچاس ٹن ہے اور اس کا ہدف پانچ ہزار کلومیٹر دور جنوبی بحر ہند میں ہوگا۔

پرواز کے دوران سائنسدان بہت سے مختلف پیمانوں پر اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ میزائل کی آزمائش کس حد تک کامیاب رہی۔

میزائل بھارت میں دفاعی تحقیق کے ادارے ڈی آر ڈی او نے تیار کیا ہے۔

دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ اگنی پانچ کی کامیابی سے بھارت اور چین کی فوجی صلاحیتوں میں بڑھتا ہوا عدم توازن کچھ حد تک کم ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق چین نے تبت اور شن جیانگ خطے میں بھارت کی سرحد کے قریب میزائل نصب کیے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کےساتھ اپنی متنازع سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنا رہا ہے جس پر بھارت میں کافی تشویش ہے۔

بنیادی طور پر اگنی پانچ ساڑھے تین ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے اگنی تین کے ڈیزائن پر مبنی ہے۔

اگنی تین میں ڈیڑھ ٹن کا بم لیجانے کی صلاحیت ہے۔

اگنی رینج کا پہلا میزائل سات سو کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔

ان میزائلوں کی یہ خوبی بتائی جاتی ہے کہ ان میں ٹھوس ایندھن استعمال ہونے کی وجہ سے انہیں بہت کم وقت میں لانچ کیا جا سکتا ہے اور چونکہ ان کے لانچر سڑک کے راستے آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں، لہذٰا جنگ کی صورت میں انہیں تلاش کرکے تباہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔

دفاعی تجزیہ نگار راہول بیدی کے مطابق یہ میزائل دو ہزار چودہ پندرہ میں فوج کا حاصل ہونے کی امید ہے جس سے بھارت کی جوہری حملوں کو روکنے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔

ڈی آر ڈی او کا دعویٰ ہے کہ اس میزائل میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے وہ امریکی میزائلوں میں استعمال ہونے والی ٹکنالوجی سے بھی بہتر ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف نیشل سکیورٹی سٹڈیز کے سربراہ ریٹائرڈ بریگیڈئر ارون سہگل کا کہنا ہےکہ اگنی پانچ سے بھارت کو چین کے خلاف ایک ایسا ہتھیار مل جائے گا جو اب تک اس کے پاس نہیں تھا۔

اسی بارے میں