بھارت کا بین البراعظمی میزائل کا تجربہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 19 اپريل 2012 ,‭ 04:57 GMT 09:57 PST

اگنی پانچ میزائل پانچ ہزار کلو میٹر کے فاصلے کو مارک کر سکتا ہے

بھارت نے جمرات کو جوہری ہتھیار لے جانے والے بین البراعظمی بلسٹک میزائل اگنی پانچ کا تجربہ کیا ہے جس کی مار پانچ ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے۔

اس تجربے کے ساتھ بھارت ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جن کے پاس بین البراعظمی میزائل بنانے کی صلاحیت ہے۔

اگنی پانچ کی لمبائی ساڑھے سترہ میٹر ہے اور اسے تیار کرنے پر ڈھائی ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔

یہ ڈیڑھ ٹن وزن تک کے بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پہلے اس کا تجربہ بدھ کی شام ہونا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے اسے جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

دفاعی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اگنی میزائل پانچ کے تجربہ کے نتائج اس وقت ہی معلوم ہو سکیں گے جب اس کے راستے اور نشانہ پر پہنچنے تک کا مکمل تجزیہ کیا جائے گا جس کے لیے ایک مانیٹرنگ سٹیشن قائم کیا گیا ہے جسے بحریہ کے دو جنگی جہازوں کی مدد بھی حاصل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگنی پانچ میزائل کے پانچ ہزار کلومیٹر تک کے فاصلے کی مکمل جانچ پڑتال بھارت کے دفاعی ادارے ڈیفنس ریسریچ اینڈ ڈیولمپنٹ (ڈی آر ڈی او) کے سائسندان کریں گے جو اس کے نشانے کی درستگی اور نشانے پر اس کے اثر کا بھی جائزہ لیں گے۔

اگنی پانچ جدید ترین اور انتہائی پیچیدہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور اس کا تجربہ جمعرات کی صبح مشرقی ریاست اڑیسہ میں کیا گیا۔

یہ میزائل بھارت میں دفاعی تحقیق کے ادارے ڈی آر ڈی او نے تیار کیا ہے اور ادارے کا دعویٰ ہے کہ اس میزائل میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے وہ امریکی میزائلوں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی سے بھی بہتر ہے۔

دفاعی تجزیہ نگار راہول بیدی کے مطابق یہ میزائل سنہ دو ہزار چودہ پندرہ میں فوج کے حوالے کیا جائے گا جس سے بھارت کی جوہری حملوں کی مزاحمت کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔