کشمیر، فیس بُک پر تبصرہ کرنے پرگرفتاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک حلقے کے مطابق کشمیر میں جبری خاموشی قائم کی گئی ہے

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کی مقامی پولیس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اشتعال انگیز تبصرے پوسٹ کرنے کے الزام میں بعض نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ فرضی ناموں سے تبصرے کرنے والوں کی تلاش جاری ہے۔

اس کارروائی سے فیس بُک استعمال کرنے والے نوجوانوں میں تشویش پائی جاتی ہے اور وہ فیس بُک پر سیاسی تبصروں سے احتراز کرنے لگے ہیں۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ حکومت امن و قانون کا بہانہ بنا کر اظہار رائے کے بنیادی حق کو پامال کر رہی ہے۔

جمعرات کو پولیس کے اعلیٰ افسروں کا ایک اجلاس سرینگر میں منعقد ہوا۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پولیس افسروں نے فیس بُک یا ٹوِٹر جیسی ویب سائٹس پر ’اشتعال انگیز‘ تبصرے تحریرکرنے والوں کے خلاف حکمت عملی وضع کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔

پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’ہم سائبر پولیسنگ کے ایک نظام کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو کشمیر سے باہر ہیں اور کشمیری طلباء کو اکساتے ہیں۔ ایسے کئی افراد کی شناخت ہوچکی ہے اور ہم ایسے شخص تک پہنچیں گے جو بدامنی پھیلانے کی کوشش رہا ہو۔‘

پولیس کی تفتیش کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خدیجہ حسن نام سے جو فیس بُک اکاونٹ سرگرم تھا وہ دراصل سوئٹزرلینڈ کی رہنے والی ریبیکا میری ہیں، جو دو ہزار سات سے کئی بار کشمیر آچکی ہیں۔

اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ صبا احمد نے بتایا: ’یہ تو زبان بندی ہے۔ اب میں زیادہ احتیاط برتوں گی، میرے خیال میں اب ہم صرف موسم پر بحث کرسکتے ہیں۔‘

پولیس کا خیال ہے کہ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار دس تک جو احتجاجی تحریکیں چلیں ان میں فیس بُک اور یوٹیوب نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

لیکن انسانی حقوق کے لیے سرگرم ادارہ کولیشن آف سِول سوسائٹیز کے خرم پرویز کا کہنا ہے کہ پولیس آج تک یہ ثابت نہیں کرسکی ہے کہ فیس بُک پر کسی کے کچھ لکھنے سے کشمیر میں بدامنی پھیلی ہو۔

وہ کہتے ہیں: ’دو ہزار نو میں شوپیان میں دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی۔ ان کا قتل بھی ہوا۔ پھر وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ٹی وی پر بیان دیا اور اس کے ردعمل میں مظاہرے ہوئے اور ہڑتال ہوئی۔ حالیہ دنوں میں بی جے پی رہنما پروین توگڑیا نے راجوری میں مسلم مخالف تقریر کی تو قصبہ میں فسادات بھڑکے، دس روز تک کرفیو نافذ رہا۔ کیا یہ سب اشتعال انگیزی نہیں ہے؟'

پولیس کے سراغ رسانی محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ پچھلے دو سال سے فیس بک پر سرگرم تمام کشمیری نوجوانوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض ایسے اکاونٹس کے پاس ورڈ بھی معلوم کرلیے گئے ہیں، جو فرضی ناموں سے چل رہے ہیں۔

اسی بارے میں