سیاچن کے ’سانحہ‘سے امید کی کرن؟

جنرل اشفاق کیانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل اشفاق کیانی نے سیاچن کا مسئلہ حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے

گزشتہ ہفتے جب پاکستان کے وزیرتجارت مخدوم امین فہیم بھارت آئے تھے تو ایک انٹرویو کے دوران میں نے ان کے سامنے دو بنیادی سوال رکھےتھے۔ پہلا یہ کہ جب کشمیر اور دہشت گردی جیسے مسائل بدستور اپنی جگہ موجود ہیں، اور ان پر بھارت کی تشویش بھی، تو اچانک باہمی تجارت کے حق میں فضا کیسے بنتی جارہی ہے اور کیا واقعی ان کوششوں کو پاکستان کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے؟

جواب میں ان کا کہنا تھا کہ’ انسان کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے، ہم یہ کیوں نہیں سوچ سکتے کہ لڑائی جھگڑے سے کوئی فائدہ نہیں اور کیوں نہ مذاکرات کے ذریعہ آگے بڑھا جائے۔.تجارت کے ذریعہ ہم چیزوں کو آگے بڑھا کر لے جائیں گے اور اس عمل میں باقی مسائل کے بھی ایک طرف ہونے کا قوی امکان ہوسکتا ہے اور پاکستانی فوج بھی پاکستانی ہے، اور ایسا نہیں کہ فوج الگ ہے اور ہم الگ ہیں، ہم سب ایک ہیں اور ہماری سوچ اور ہمارا فیصلہ مشترکہ ہے۔

بھارت میں اس طرح کے ’سیاسی اعتبار سے درست‘ جواب کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اور ہر موڑ پر یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا جو کچھ سولین حکومت کرنا چاہتی ہے اسے پاکستانی فوج کی منظوری حاصل ہے؟

لیکن بدھ کو جب پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سیاچن کا مسئلہ حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تو بھارت میں یہ سنجیدہ بحث شروع ہوگئی کہ کیا سیاچن سانحہ کے بعد انہیں برفیلی پہاڑیوں سے امن کی راہ نکل سکتی ہے۔

ایک طرف امن پسند لابی ہے جس کا کہنا ہے کہ دنیا کے اس بلند ترین میدان جنگ میں فوجوں کی تعیناتی ایک غلطی تھی جس کے ازالے کا وقت آگیا ہے جبکہ دوسری طرف سخت گیر موقف رکھنے والے لوگوں کا خیال کہ سیاچن میں بھارت کو ’فوجی سبقت‘حاصل ہے اور اسے اپنے مطالبات منوائے بغیر پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔

اسی سوال پر کئی اخباروں نے اداریے بھی لکھے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہے کہ’ سانحے سے (باہمی تعلقات کی) برف پگھل سکتی ہے‘۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اگر سیاچن پر دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت ہوجاتی ہے تو قیام امن کے عمل کو زبردست فروغ حاصل ہوگا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ ’اپنے بیان سے جنرل کیانی نے ایک بار پھر کھلے عام یہ پیغام دیا ہے کہ وہ قیام امن کے حق میں ہیں۔اسی طرح انہوں نے باہمی تجارت کی بھی حمایت کی تھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وقت کے ساتھ ان کے موقف میں نرمی آرہی ہے۔ وہ تعلقات میں بہتری کی بات کر رہے ہیں کیونکہ انہیں یہ احساس ہے کہ بھارت سے کشیدہ تعلقات سے جو نقصان ہوگا اسے فی الحال پاکستان برداشت کرنے کی حیثیت میں نہیں ہے۔’

ٹائمز آف انڈیا نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ قیام امن کے عمل میں اب تک ایک کمی یہ تھی کہ پاکستانی فوج نے اس سلسلے میں خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ لہذا یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ جنرل کیانی نے بقا باہم کا پیغام دیا اور وہ سیاچن سے شروعات کرکے تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ اخبار کا خیال ہے کہ جنرل کیانی کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تعلقات کی استواری کے لیے سولین حکومت کی جانب سے جو کوششیں کی جارہی ہیں انہیں فوج کی حمایت حاصل ہے۔

لیکن سیاچن پر کوئی بھی پیش رفت بھارتی فوج کے بنیادی تحفظات کو ختم کیے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔ بھارتی فوج نے انیس سو چوراسی میں سیاچن کے بلند ترین مقامات پر اپنی چوکیاں قائم کی تھیں اور تب سے فوجوں کی واپسی میں یہ مطالبہ رکاوٹ بنا ہوا ہے کہ پاکستان فوجوں کی واپسی کی بات کرنے سے قبل ایک نقشے پر ان مقامات کی باقاعدہ نشاندہی کرے جہاں بھارتی چوکیاں قائم ہیں۔ لیکن پاکستان اس کے لیے تیار نہیں ہے۔

ایک سابق بھارتی فوجی افسر کے حوالے سے ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ’ ہم جب تک سیاچن میں اپنی مضبوط پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے جب تک پاکستان کی طرف سے ہمیں ایسی( نقشے پر چوکیوں کی نشاندہی کی شکل میں) ٹھوس یقین دہانی نہیں مل جاتی‘

انڈین ایکسپریس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ترقیاتی کاموں اور دفاعی اخراجات میں توازن کی ضرورت پر زور دیکر جنرل کیانی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے حق میں ہیں۔

جہاں تک ’پر امن بقائے باہمی‘ کا سوال ہے، اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت میں کچھ لوگ ضرور یہ کہیں گے کہ یہ صرف ایک بیان ہے جسے پالیسی میں تبدیلی نہیں مانا جانا چاہیے لیکن ’حقیقت پسند لوگ یہ کہیں گے کہ پاکستان کے اندرونی حالات بگڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ اسے مجبوراً اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی پڑی ہو۔

اسی بارے میں