کشمیر: فوجی سکولوں میں کتاب پر پابندی

کشمیر فوج تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیر میں فوجی سکولوں میں جغرافیہ کی یہ متنازعہ کتاب اب نہیں پڑھائی جائے گی

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں تعینات فوج کی پندرہویں کور کے زیر نگرانی چلنے والے سکولوں میں پیر سے جغرافیہ کی کتاب نہیں پڑھائی جائے گی۔ یہ ہدایات نئی دلّی میں بعض میڈیا اطلاعات کے بعد جاری کی گئیں جن کے مطابق کتاب کے ایک سبق میں پاکستانی زیرانتظام کشمیر کو ’آزاد کشمیر‘ کہا گیا ہے اور نقشہ پر صاف صاف اسے پاکستان کا جائز حصہ دکھایا گیا ہے۔

فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کو بتایا: ’آرمی سکولوں میں سینٹرل بورڑ آف سکول ایجوکیشن یعنی سی بی ایس ای کا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ کتاب سی بی ایس ای نے شائع کی ہے۔ لہٰذا یہ معاملہ مرکزی وزارتِ تعلیم کا ہے۔ لیکن ہم نے فی الحال فیصلہ کیا ہے کہ کل سے یہ کتاب نہیں پڑھائی جائے گی۔‘

اس انکشاف کے بعد نئی دلّی میں حزب اختلاف بی جے پی نے حکومت کی کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ بی جے پی رہنما مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ حکومت کو اس معاملہ کی اعلیٰ سطحی تحقیات کرنی چاہیئے اور معلوم ہونا چاہیئے کہ آیا یہ ایک غلطی ہے یا جان بوجھ کر ایسا کیا جا رہا ہے۔

سی بی ایس ای کا نصاب پورے بھارت میں رائج ہے، لیکن فوجی نگرانی کے تحت چلنے والے سکولوں میں اس کتاب کی تدریس ایک سیاسی تنازعہ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ یہ تنازعہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت کے چیف آف سٹاف جنرل ونود کمار سنگھ فوج کے اندر مختلف دھاندلیوں کا پردہ فاش کرچکے ہیں۔

واضح رہے کشمیر کے نقشوں یا جگہوں کے ناموں سے متعلق یہاں اکثر تنازعات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ برطانوی ہفت روزہ ’دی اکانومِسٹ‘ کی کاپیاں پچھلے سال کشمیر پولیس نے ضبط کرلیں کیونکہ اس میں شائع برصغیر کے نقشہ میں کشمیر کو ہندوستان سے الگ دکھایا گیا تھا۔

اسی طرح مقامی تعلیمی بورڑ کے بعض ملازمین کو بھی پولیس کی تفتیش کا سامنا رہا، کیونکہ پہلی جماعت کی اُردو کتاب میں ’ظ سے ظالم‘ لکھا تھا اور اس کے آگے ایک وردی پوش شخص کی تصویر تھی۔ اس سے قبل ایک پروفسیر کو قید کیا گیا کیونکہ انہوں نے کالج امتحانات کے دوران انگریزی کے پرچے میں کشمیر میں کم سن لڑکوں کی ہلاکت سے متعلق ایک سوال تحریر کیا تھا۔

پاکستانی زیرِانتظام کشمیر کو ’آزاد کشمیر‘ کہنے پر ہندنواز رہنماؤں کو بھی اکثر تنقید کا سامنا رہتا ہے۔ فاروق عبداللہ، مفتی سعید اور عمرعبداللہ کئی مرتبہ پاکستانی کشمیر کو آزاد کشمیر کہہ چکے ہیں۔ تاہم بعد میں انہوں نے اسے ’سِلپ آف ٹنگ‘ یعنی زبان کی چوک قرار دیا۔

قابل ذکر ہے پچھلے سال نئی دلّی کی لا یونیورسٹی نے ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا جس میں پاکستانی زیرانتظام کشمیر کی یونیورسٹی کے کئی پروفیسروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس میں شرکت کرچکے ایک کشمیری پروفیسرنے بتایا کہ سیمینار میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی یونیورسٹی کو ڈائس سے آزاد کشمیر یونیورسٹی ہی پکارا گیا جبکہ دستاویزات میں بھی دانشگاہ کو آزادکشمیر یونیورسٹی ہی لکھا گیا تھا۔

اسی بارے میں