کلکٹر کے بدلے ماؤ نوازوں کی رہائی کا مطالبہ

الیکس پال تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption الیکس پال مینن کو سنیچر کے روز ماؤنواز باغیوں نے اغواء کیا تھا

ماؤ نواز باغیوں نے چھتیس گڑھ سے اغوا کیے گئے كلكٹر کی رہائی کے لیے حکومت کو پچیس اپریل تک کا وقت دیتے ہوئے اپنے کئی ساتھیوں کی رہائی اور آپریشن گرين ہنٹ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ماؤ نواز باغیوں نے سنیچر کی شام کو چھتیس گڑھ کے ضلع سکما کے كلكٹر ایلکس پال مینن کو اغواء کر لیا تھا۔ اغواء سے پہلے ماؤنواز باغیوں نے فائرنگ کی تھی جس میں الیکس پال مینن کے دو سیکورٹی گارڈز ہلاک ہوگئے تھے۔

بی بی سی کو ملنے والے ریکارڈ شدہ بیان میں کلکٹر کے اغواء کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کی رہائی کے لیے مطالبات پیش کیے گئے ہیں جن میں آپریشن گرين ہنٹ کی بندش، دانتے واڑہ رائے پور جیل میں مبینہ طور پر فرضی معاملات میں بند لوگوں کی رہائی، سکیورٹی اہلکاروں کی بیرکوں میں واپسی اور آٹھ ماؤ نواز باغیوں کی رہائی شامل ہیں۔

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع سکما کے کلکٹر کو اغواء کرنے والے ماؤ نواز باغیوں کے گروپ کی شناخت کرلی گئی ہے۔

چھتیس گڑھ میں بی بی سی کے نامہ نگار سلمان راوی نے پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عینی شاہدین سے معلوم ہوا ہے کہ کلکٹر الیکس پال مینن کو ماجھی پاڑا گاؤں سے جب اغواء کیا گیا تو اس وقت اس مقام پر نکسلی کمانڈر رمننا اور بھیما موجود تھے۔

تاہم پولیس اور انتظامیہ اغواء کے اس معاملے پر کچھ بھی کہنے سے فی الحال گریز کر رہے ہیں۔ ماجھي پاڑا گاؤں ضلع سکما کے ہیڈ کوارٹر سے تقریباً سینتالیس کلومیٹر دور ہے۔

ادھر آج سكما اور كوٹا میں مقامی لوگوں نے شٹر ڈاؤن کی کال دی ہے اور لوگ مظاہرے کررہے ہیں۔ یہ افراد الیکس پال مینن کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

الیکس پال مینن کی اہلیہ نے اپیل کی ہے کہ ان کی صحت کو دھیان میں رکھتے ہوئے ماؤ نواز باغی انہیں جلد سے جلد چھوڑ دیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے شوہر دمے کے مریض ہیں اور تین گھنٹے بعد انہیں دوائی کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ ان کے پاس نہیں ہے۔

ماؤ نواز باغیوں کے تشدد کے لحاظ سے چھتیس گڑھ کا ضلع سکما سب سے حساس ضلع ہے۔

اسی بارے میں