فوج کے نامزد سربراہ کے خلاف مقدمہ خارج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption درخواست میں فوجی سربراہ کے عہدے کے لیے برکم سنگھ کی اہلیت پر سوال اٹھائے گئے ہیں

بھارت کی سپریم کورٹ نے بری فوج کے نامزد سربراہ جنرل بکرم سنگھ کے خلاف مفاد عامہ کی ایک درخواست پر سماعت کے بعد اسے مسترد کر دیا ہے۔

مفاد عامہ کی درخواست میں مسٹر سنگھ کی اگلے فوجی سربراہ کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ لیکن عدالت نے اس میں مداخلت سے انکار کر دیا ہے۔

پیر کی صبح اس معاملے پر سماعت شروع ہوئی تو پہلے عدالت نے مرکزی حکومت کو مسٹر سنگھ کی خدمات کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ لیکن دوپہر بعد حکومت کا موقف سننے کے بعد سپریم کورٹ کی بینچ نے کہا ’اس معاملے میں مداخلت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘

عدالت نے درخواست گذاروں کی اس درخواست کو بھی رد کر دیا تھا کہ اس مقدمے کی سماعت بند کمرے میں ہونی چاہیے۔

کچھ روز پہلے کئی سابق اعلیٰ سرکاری اور فوجی اہلکاروں نے بری فوج کے اگلے نامزد سربراہ بکرم سنگھ کے خلاف سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست داخل کی تھی۔

اس درخواست میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل بکرم سنگھ کو بری فوج کے سربراہ کے عہدے پر مامور ہونے سے روکا جائے۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ فوج کے اعلیٰ ترین عہدے کے لیے ان کا انتخاب سیاسی وجوہات کی بنا پر کیاگیا ہے۔

مرکزی حکومت نے اس درخواست پر سخت اعتراض کیا تھا اور کہا کہ یہ درخواست بد نیتی کے تحت دائر کی گئی ہے تاکہ موجودہ فوجی سربراہ کی عمر کے تنازع کو دوبارہ اٹھایا جا سکے۔

جنرل بکرم سنگھ کے خلاف ساٹھ صفحات پر مشتمل درخواست پر سرکردہ شخصیات کے ساتھ ساتھ بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل رام داس اور سابق الیکشن کمشنر این گوپالا سوامی نے بھی دستخط کیے تھے۔

مفاد عامہ کی اس عذرداری میں درخواست گزاروں نے کئی واقعات کا ذکر کیا تھا جو بقول ان کے لیفٹینٹ جنرل بکرم سنگھ کے ماضی کے کردار کے بارے میں شکوک پیدا کرتے ہیں۔

پہلے واقعے میں بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں ایک جعلی تصادم کا ذکر تھا۔ اس واقعے میں ایک نوجوان لڑکے کی ماں نے ریاستی ہائی کورٹ میں ایک درخواست داخل کی تھی جس میں کہا گيا تھا کہ ان کا لڑکا یومیہ اجرت پر کام کرتا تھا اور اسے اننت ناگ ضلع میں غیر ملکی شدت پسند بتا کر مار دیا گيا تھا۔ بکرم سنگھ اس وقت بریگيڈیئر تھے اور اس مقابلے کے لیے انہیں بہادری کا ایواڈ بھی دیا گیا تھا۔

عذرداری میں کہا گيا تھا کہ لیفٹنٹ جنرل بکرم سنگھ بری فوج کے سربراہ بننے کے اہل کس طرح ہو سکتے ہیں جب ان کے خلاف مجرمانہ نوعیت کا مقدمہ چل رہا ہے۔

دوسرے واقعے میں دو ہزار آٹھ میں کانگو میں بکرم سنگھ کی قیادت میں امن فوج کے اکاون فوجیوں کے ذریعے مقامی لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزامات کی انکوائری کا ذکر تھا۔

ان پر الزام ہے کہ وہ ان فوجیوں کو مقامی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور مقامی لوگوں سے گھلنے ملنے سے روکنے میں ناکام رہے۔ درخواست میں کہا گيا ہے کہ فوج کی داخلی انکوائری کی رپورٹ ابھی تک نہیں آئي ہے۔

سپریم کورٹ نے کانگو سے متعلق بکرم سنگھ کی خدمات سے متعلق ریکارڈ کو حکومت سے طلب کیا تھا۔ اور مرکزی حکومت سے پوچھا کہ جب نئے فوجی سربراہ کے متعلق کابینہ میں ان کے نام کا ذکر ہوا تو کیا ان کے خلاف لگے الزامات پر غور کیا گيا تھا یا نہیں۔

اسی بارے میں