راجیوگاندھی نے رشوت نہیں لی: اطالوی پولیس سربراہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 25 اپريل 2012 ,‭ 10:55 GMT 15:55 PST

بوفورس کیس کی وجہ سے ہی راجیوگاندھی کو سیاسی سطح پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا

بھارت میں بوفورز توپوں کی خریداری سے متعلق بدعنوانی پر خفیہ معلومات دینے والے سویڈین کے سابق پولیس سربراہ کے انکشافات سے یہ معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔

اب اس بات کا بھی پتہ چل گيا ہے کہ اس سے متعلق صحافیوں کو خفیہ معلومات کون فراہم کرتا تھا۔

بوفورس کیس کے پچیس برس بعد سویڈین کے سابق پولیس سربراہ سٹین لنڈزسٹرام نے انکشاف کیا ہے کہ بوفورز سودے میں رشوت کے لین دین سے متعلق انہوں نے ہی بھارتی اخبار کو معلومات فراہم کی تھیں۔

مسٹر سٹین نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بوفورز کی دلالی میں اس وقت کے وزیراعظم راجیو گاندھی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ تاہم مسٹر گاندھی نے اس میں ملوث افراد کو بچانے کے لیے جو کوششیں ہوئیں اسے نظر انداز کیا تھا۔

سٹین لنڈس سٹرام کا کہنا تھا کہ بوفورز دلالی کی تفتیش کرنے والے پولیس افسروں نے اداکار امیتابھ بچن کا نام اس سے زبردستی جوڑ دیا تھا۔

بھارت کے معروف انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ نے سنہ انیس سو اٹھاسی میں دلالی کے معاملے کو اپنے خفیہ ذرائع سے شائع‏ کرنا شروع کیا تھا اور تب سبھی کو یہ دلچسپی تھی کہ آخر وہ خفیہ ذرائع کون ہیں۔

مسٹر سٹین نے کہا کہ انہوں نے ہی بوفورز میں رشوت کی لین دین سے متعلق ہندو اخبار کی نامہ نگار چترا سبرامنیم کو دستاویزات فراہم کی تھیں۔

یہ معلومات بھی انہوں نے محترمہ چترا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ہیں جو ہوٹ نامی ایک ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم راجیوگاندھی نے بوفورز کے سودے میں رشوت لی ہو۔

بوفورس دفاعی سودوں میں ہندوسان کا پہلا بڑا سکینڈل تھا

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے میں رشوت لینے والے اطالوی شہری کواتروچی کو بچانے کے لیے جو کوششیں کی گئیں انہیں راجیو گاندھی نے نظر انداز کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے پختہ ثبوت تھے کہ کواتروچی نے رشوت لی تھی لیکن بھارتی حکومت یہ کہتی رہی کہ بوفورز سودے سے ان کا کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے اور سویڈن یا سوئٹزر لینڈ میں کسی بھی شخص سے پوچھ گچھ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

ہندوستان کی سیاست کو بدل دینے والے بوفورز دلالی کیس میں اطالوی بزنس مین اوتوویو کواتروچی کا نام اکثر آتا رہا تھا لیکن گزشتہ برس بھارت کی ایک عدالت نے مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئی کی وہ درخواست منظور کر لی تھی جس میں ان کے خلاف مقدمہ ختم کرنے کی گزارش کی گئي تھی۔

کواتروچی پر بوفورز توپ کے سودے میں دلالی لینے کا الزام تھا لیکن پوچھ گچھ کے لیے انہیں کبھی ہندوستان نہیں لایا جاسکا حالانکہ سی بی آئی کی درخواست پر انہیں انٹرپول نے دو مرتبہ حراست میں لیا تھا۔

سویڈن کی کمپنی اے بی بوفورز سے توپویں خریدنے کے لیے تقریباً چودہ سو کروڑ روپےکا سودا انیس سو چھیاسی میں کیا گیا تھا، اس وقت راجیو گاندھی ملک کے وزیر اعظم تھے۔ الزام یہ تھا کہ راجیو گاندھی نے کواتروچی سمیت کچھ لوگوں کی مدد سے اس سودے میں کمیشن لیا تھا اور اگرچہ یہ الزام کبھی ثابت نہیں ہوا لیکن اس کے نتیجے میں انیس سو نواسی میں ان کی حکومت چلی گئی تھی۔

بوفورس دفاعی سودوں میں ہندوسان کا پہلا بڑا سکینڈل تھا اور انکم ٹیکس کے ٹرائبیونل نے اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ کواتروچی اور ایک دوسرے ملزم ون چڈھا کو اکسٹھ کروڑ روپے کا کمیشن حاصل ہوا تھا۔ ون چڈھا کا انتقال ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔