بھارت: معاشی درجہ گرگیا

بھارتی روپیہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دنیا کی معیشتوں کی حالت کا تجزیہ اور درجہ بندی کرنے والے عالمی ادارے سٹینڈرڈ اینڈ پورز (ایس اینڈ پی) نے بھارت کی معیشت کومستحمکم معیشت کے زمرے سے ہٹا کر منفی درجہ بندی میں رکھ دیا ہے۔

سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے یہ بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر آئندہ دو سالوں میں معیشت میں بہتری نہ آئی تو بھارت کی معیشت کمتر درجے میں شمار کی جائے گی۔ اس تجزیے کے بعد بھارت کے حصص بازار میں زبردست گراوٹ آئی ہے ۔

معاشی اصطلاح میں بھارتی معیشت کی درجہ بندی فی الوقت ٹریبل بی پلس ہے جسے ایس اینڈ پی نے منفی درجے میں ڈالتے ہوئے ٹریبل بی مائنس کر دیا ہے ۔

درجہ بندی میں اس کمی سے بھارتی کمپنیوں کو غیر ممالک سے قرضے مہنگی شرحوں پر ملیں گے اور حصص بازار پر بھی برا اثر پڑے گا۔ٹریبل بی مائنس سرمایہ کاری کے لیے سب سے نیچے کا مقام ہے ۔

معیشت کی درجہ بندی کرنے والی ایجنسی نے کہا ہے کہ '' معیشت کو منفی زمرے میں رکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارتی معیشت دو برس میں کمتردرجے پر جانے والی ہے ۔'' اگر ملک کی معیشت کی ترقی کے امکانات معدوم ہو رہے ہوں ، اس کی خارجی پوزیشن بری ہو رہی ہو ، سیاسی ماحول بگڑ رہا ہویا اقتصادی اصلاحات کا عمل سست پڑ چکا ہو تو ان حالات میں معیشت کی درجہ بندی نیچے آجاتی ہے ۔

ایک عالمی ماہر اقتصادیات جگناتھن تھونگونتلا نے بھارتی معیشت کی منفی درجہ بندی پر رد عمل ظاہر کرتے ہو ئے کہا ہے کہ بھارتی معیشت جمود سے بس ایک قدم دور رہ گئی ہے ۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کی اقتصادی ترقی کا خواب اب ٹوٹنے کے قریب ہے ''۔

بھارت معیشت کی منفی درجہ بندی بنیادی طور پر اس کی گھٹتی ہوئی شرح ترقی اور بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے کی پیش نظر کی گئی ہے ۔مالیاتی خسارہ گزشتہ مارچ میں ختم ہونے والے مالی سال میں9۔5 فی صد کی شرح سے بڑھا ہے جو ہدف سے بہت اوپر تھا ۔

اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اقتصادی اصلاحات کا عمل سست پڑنے اورحکومت پر کئی طرح کے زرتلافی یا سبسڈی کا بار ہونے کے باعث اس کے امکانات بہت کم ہیں کہ بھارت مالیاتی خسارے کی شرح کو اس برس 1۔5 فی صد کی شرح پر نیچے لا سکے گا ۔

وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا ہے کہ انہیں معیشت کی اس ریٹنگ پر تشویش ضرور ہے لیکن انہوں نےکہا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا '' وہ یہ مانتے ہیں کہ بھارت کی معیشت اس برس سات فیصد کی شرح سے نہیں بڑھے گی بلکہ وہ محض 3۔5 فی صد کی شرح سے بڑھے گی ۔ لیکن مجھے پورا بھروسہ ہے کہ معیشت سات فی صد کی شرح سے ہی ترقی کرے گی کیونکہ معیشت کے تمام بنیادی عناصر مستحکم ہیں ۔

بھارتی معیشت کی منفی درجہ بندی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ابھی گزشتہ ہفتے حکومت کے اعلی اقتصادی مشیر کوشک باسو نے بھارتی معیشت کے بارے میں کہا تھا کہ اس بات کے امکان اب کم ہیں بھارت میں آئندہ دو برس تک اقتصادی اصلاحات کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھایا جائے گا ۔

یہ بات انہوں نے اس حقیقت کے پیش نظر کہی تھی کہ 2014 میں ملک میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور حکومت کوئی سخت قدم اٹھانے سے گویز کرے گی ۔

منموہن سنگھ کی موجودہ حکومت سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ چونکہ اس مدت میں اس کے اوپر قدرے کم دباؤ ہے اس لیے وہ اصلاحات کے ضمن میں بڑے فیصلے کرسکتی ہے ۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے وہ یہ موقع اب کھو جکی ہے ۔

گزشتہ تین برس سے معیشت کی ترقی کی شرح ہدف سے نیچے گئی ہے ۔ روپیے کی قیت ریکارڈ درجے تک نیچے پہنچ گئی ہے ۔ صنعتی پیداوار میں زبردست گراوٹ آئی ہے ۔ تعمیراتی سرگرمیاں رفتہ رفتہ سست روی کی طرف بڑھ رہی ہیں اور افراط زر کی شرح اوسطاً سات فی صد سے زیادہ رہی ہے ۔ لندن میں مقیم ماہر اقتصادیات میگھناد دیسائی نے کہا ہے کہ ''معیشت میں سست روی روکنے کے لیے وزیر خزانہ کو فوری طور پر اصلاحی قدم اٹھانے ہونگے جس کے لیے ان کے پاس وقت بہت کم ہے ۔

منموہن سنگھ کی حکومت اس وقت کئی طرف سے دیاؤ کا سامنا کر رہی ہے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سٹینڈرڈ اور پورز کی طرف سے معیشت کو منفی زمرے میں رکھے جانے کے بعد پہلے سے ہی کی کنفیوژن کا شکار حکومت مزید افرا تفرای کا شکار ہو گی ۔

اسی بارے میں