لکشمی بچپن کی شادی ختم کرانے میں کامیاب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میں اس شادی سے ناخوش تھی: لکشمی

بھارت کی ریاست راجھستان میں ایک خاتون اپنی بچپن کی شادی کو قانونی طور سے ختم کرانے میں کامیاب ہوگئیں ہیں اور یہ ملک میں ایسا پہلا واقعہ تصور کیا جا رہا ہے۔

اٹھارہ سالہ لکشمی سرگارا کی شادی راکیش سے اس وقت ہوئی تھی جب وہ صرف ایک سال کی تھیں جبکہ راکیش کی عمر اُس وقت تین برس تھی۔

تاہم لکشمی نے اپنے والدین کے گھر میں ہی پرورش پائی اور انہیں اپنی شادی کے بارے میں اسی ماہ اُس وقت علم ہوا جب ان کے سسرال والے انہیں مانگنے ان کے گھر پہنچے۔

بھارت میں بچپن کی شادیوں پر قانونی طور سے پابندی عائد ہے تاہم اب بھی ملک کے کئی حصوں خصوصاً دیہات میں ایسی شادیاں روایت کا حصہ ہیں۔

لکشمی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’میں اس شادی سے ناخوش تھی۔ میں نے اپنے والدین کو اس بارے میں بتا دیا لیکن وہ مجھ سے متفق نہیں تھے جس کے بعد میں نے مدد تلاش کی۔‘

چند دن پہلے تک جب ان کے سسرال والے ان کے گھر انہیں راکیش کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کے لیے لے جانے آئے تھے تو اُس وقت وہ اپنی زندگی کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھیں۔

اپنے والدین سے التجا کرنے کے بعد جب انہیں کامیابی نہیں ہوئی تو لکشمی نے مقامی غیر سرکاری ادارے سارتھی ٹرسٹ سے مدد چاہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption راکیش نے شادی کی تنسیخ کے حلف نامے پر دستخط کیے

ادارے کی ایک رکن کُرتی بھارتی نے اے ایف پی کو بتایا ’وہ بہت مضطرب تھی۔ وہ لڑکے کو پسند نہیں کرتی تھی اور اپنے والدین کے فیصلے پر عمل کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔‘

انہوں نے کہا ’یہ اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے جس میں ایک ایسا جوڑا جس کی شادی بچپن میں کردی گئی ہو وہ اپنی شادی کو ختم کرنا چاہتا ہو۔ ہمیں امید ہے کہ اب دیگر لوگوں کو بھی حوصلہ ملے گا۔‘

راکیش ابتداء میں اپنی شادی پر قائم تھے تاہم غیر سرکاری ادارے کی جانب سے صلاح مشورے کے بعد ان کے موقف میں لچک آگئی۔

بھارت میں بچپن کی شادی پر پابندی کا ایکٹ موجود ہے جس کے تحت بچپن میں کی گئی شادیوں کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی ہے اور اسی کی روشنی میں لکشمی اور راکیش نے جودھپور میں نوٹری پبلک کے سامنے پیش ہو کر شادی کو اقرارِ باطل اور منسوخ کیے جانے پر حلفیہ بیان دیا اور اس پر دستخط کیے۔

راجسھتان کے دارالحکومت جے پور میں صحافی نارائن باریٹھ کا کہنا ہے کہ حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست راجھستان میں دس فیصد لڑکیوں کی شادی ان کی اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی کر دی جاتی ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں لڑکیوں کی جانب سے ایسی شادیوں سے انکار کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں تاہم ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق، بھارت میں بچپن کی شادیوں کو روکنے کی کوششوں کے باعث ان میں کمی آئی ہے لیکن اب بھی دنیا بھر میں ہونے والی بچپن کی شادیوں کا چالیس فیصد بھارت میں ہوتی ہیں۔