بنگارو لکشمن: رشوت لینے کے معاملے میں قصوروار

بنگارو لکشمن تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بنگارو لکشمن کو تہلکا میگزین کے ایک سٹنگ آپریشن میں رشوت لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق صدر بنگارو لکشمن کو سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے رشوت لینے کے الزام میں قصوروار ٹھہرایا ہے لیکن انہیں سزا سنیچر کو سنائی جائے گی۔

عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے بنگارو لکشمن کو جیل بھیجنے کا حکم دیا اور کارروائی ختم ہوتے ہی انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ انہیں زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

رشوت ستانی کا یہ معاملہ سن دو ہزار ایک کا ہے جب بھارتی میگزین تہلکہ سے وابستہ صحافیوں نے ایک سٹنگ آپریشن کے دوران ایک لاکھ روپے کی رقم لیتے ہوئے بنگارو لکشمن کی خفیہ ویڈیو بنائی تھی۔

اس سٹنگ آپریشن میں تہلکہ کے صحافیوں نے دفاعی سودوں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے خود کو ہتھیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کے ڈیلروں کے طور پر پیش کیا تھا۔ ویڈیو میں بنگارو لکشمن صحافیوں سے بظاہر یہ وعدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ وہ فوج کے کانٹریکٹ دلوانے کے لیے اپنے اثرو رسوخ استعال کرسکتے ہیں۔

اس کیس میں سمتا پارٹی کی لیڈر جیا جیٹلی اور کئی دیگر سیاسی شخصیات اور اعلٰی فوجی افسران کو بھی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے۔ جیا جیٹلی اس وقت کے وزیرِ دفاع جارج فرنانڈس کے قریب مانی جاتی تھیں۔ اس وقت ملک میں بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے کی مخلوط حکومت تھی۔

ویڈیو جاری کیے جانے کے بعد بنگارو لکشن کو پارٹی صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ مقدمے کے دوران بنگارو لکشمن کے سابق سیکریٹری وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔ انہوں نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا تھا کہ مبینہ سودا پانچ لاکھ روپے میں طے ہوا تھا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد کانگریس کے وفاقی وزیر کپل سبل نے کہا کہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا اصل چہرا ہے اور اسے بوفورس کے بجائے تہلکہ کیس کے لیے عدالتی کمیشن کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمعرات کو پارلیمان میں مطالبہ کیا تھا کہ بوفورس توپوں کے سودے میں غیر قانونی طور پر کمیشن دیے جانے کے الزامات کی انکوائری کے لیے ایک عدالتی کمیشن قائم کیا جانا چاہیے۔

مسٹر سبل نے کہا کہ اس بات کی بھی انکوائری ہونی چاہیے کہ دفاعی کانٹریکٹ دلوانے کے دعوے کس کی ایما پر کیے جارہے تھے۔

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے حال ہی میں الزام لگایا تھا کہ ایک سابق افسر نے چھ سو ٹرکوں کے ایک سودے کی منظوری کے عوض انہیں چودہ کروڑ روپے کی رشوت دینے کی پیش کش کی تھی۔

اسی بارے میں