’حکومت ردعمل دے تو ڈیڈ لائن بڑھ سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption سکما کے کلکٹر ایلکس مینن ماؤ نوازوں کے قبضے میں ہیں

ماؤ نواز باغیوں نے کہا ہے کہ اگر چھتیس گڑھ کی حکومت ان کے مطالبات کے تئیں اپنا رویہ واضح کرے تو وہ سكما کے مغوی كلكٹر ایلكس پال مینن کی رہائی کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن بڑھانے پر غور کر سکتے ہیں۔

بی بی سی کے سلمان راوی کے مطابق جمعہ کی صبح جاری کیے گئے بیان میں باغیوں کی جنوبی ڈویژنل کمیٹی کے سیکرٹری وجے مڈكام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ چھتیس گڑھ کی حکومت کی جانب سے ’وقت کی حد بڑھانے کے درخواست‘ کے بارے میں انہیں میڈیا سے معلومات ملی ہیں۔

بیان کے مطابق ’اس بارے میں ہم فوری فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ہمارے مطالبات پر حکومت کی جانب سے آج تک کوئی جواب نہیں ملنے کی صورت میں ہم وقت کی حد بڑھانے کے بارے میں فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں‘۔

ماؤ نواز باغیوں کا کہنا ہے کہ چھتیس گڑھ کی حکومت کی طرف سے ان کی مطالبات پر اپنا رویہ واضح کرنے کے بعد وہ ڈیڈ لائن کی مدت بڑھانے پر جواب بھیج دے سکتے ہیں۔

ماؤ نواز باغیوں نےکلکٹر کی رہائی کے عوض جو مطالبات کیے ہیں ان میں آپریشن گرين ہنٹ کی بندش، دانتے واڑہ رائے پور جیل میں مبینہ طور پر فرضی معاملات میں بند لوگوں کی رہائی، سکیورٹی اہلکاروں کی بیرکوں میں واپسی اور آٹھ ماؤ نواز باغیوں کی رہائی شامل ہے۔

ماؤ نواز باغیوں نے كلكٹر کی رہائی کے بدلے اپنے مطالبات پورے کرنے کے لیے پچیس اپریل کی ڈیڈ لائن رکھی تھی۔ یہ ڈیڈ لائن تو گزر گئی مگر ماؤ نواز باغیوں کی طرف سے تاحال کسی نئی ڈیڈ لائن کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

ماؤ نواز باغیوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وقت کی حد کے ختم ہونے کے بعد وہ اغواشدہ كلكٹر کو عوامی عدالت میں پیش کریں گے تاہم یہ پتہ نہیں چل پایا ہے کہ ماؤنواز باغیوں نے عوامی عدالت لگائی ہے یا نہیں۔

جمعہ کو سی پی آئی کے لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی منیش كجام ماؤ نواز باغیوں کے قبضے میں موجود كلكٹر کے لیے دوائیں پہنچا كر واپس لوٹے تو انہوں نے بتایا کہ ابھی تک ماؤ نواز باغیوں کی طرف سے عوامی عدالت لگائے جانے کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔.

ماؤ نواز باغیوں کی طرف سے جمعہ کو دو بیان جاری کیے گیے ہیں۔ دوسری بیان تنظیم کی جنوبی ريجنل کمیٹی کی طرف سے جاری کیا گیا ہے جس میں ماؤ نواز باغیوں نے ایلكس پال مینن کو اغوا کرنے کی وضاحت پیش کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سكما کے علاقے میں پولیس کے مظالم کی کئی وارداتیں ہوئیں مگر كلکٹر نے ان کا نوٹس نہیں لیا تھا۔

اسی بارے میں