ولدیت معاملہ، ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم

این ڈی تیواری تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption این ڈی تیواری پر الزام ہے کہ انہوں نے روہت شیکھر کی ماں سے شادی کا وعدہ کیا تھا جسے پورا نہیں کیا

دلی ہائی کورٹ نے ولدیت کے ایک مقدمہ میں ریاست آندھرا پردیش کے سابق گورنر این ڈی تیواری کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے خون کا نمونہ دینے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اس پہلے اس عدالتی فیصلے کو خارج کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے خون کا نمونہ دینے کے لیے انہیں کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔

ہائی کورٹ نے جمعہ کو ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ اگر این ڈی تیواری خون کا نمونہ دینے سے انکار کرتے ہیں تو اس کام میں پولیس کی مدد لی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ تیس سالہ روہت شیکھر کا کہنا ہے کہ این ڈی تیواری ان کے حقیقی باپ ہیں لیکن تیواری اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔

روہت نے اسی مسئلے پر عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا لیکن تیواری نے یہ کہہ کر اسے خارج کرنے کی اپیل کی تھی کہ پیدائش کے اکتیس برس بعد یہ مقدمہ کیوں دائر کیا گیا۔

لیکن دلی ہائی کورٹ میں جسٹس وکرم جیت کے بینچ نے ان کی یہ اپیل مسترد کردی اور سات اپریل کو اس معاملے سے متعلق سبھی لوگوں کو طلب کیا تھا۔

روہت شیکھر نے گزشتہ برس نومبر میں عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا لیکن لیکن عدالت نے ان کے کیس کو یہ کہہ کر خارج کردیا تھا کہ نارائن دت تیواری ریاست آندھرا پردیش کے گورنر ہیں اور وہ وہیں رہتے ہیں اس لیے شنوائی دلی میں نہیں ہو سکتی۔

روہت شیکھر نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ نارائن دت تیواری اور ان کی ماں کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اور انہوں نے ماں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان سے شادی کر لیں گے لیکن وہ اپنے وعدے سے مکر گئے تھے۔

نارائن دت تیواری کانگریس کے سینیئر رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو دو ریاستوں کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور آخر میں انہیں گورنر کا عہدہ سونپا گیا تھا۔ لیکن ان کے حوالے سے ایسی خبریں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

دسمبر میں گورنر کے عہدہ پر رہتے ہوئے انہیں ایک سٹنگ آپریشن میں راج بھون کے اندر بعض خواتین کے ساتھ نیم عریاں حالت میں دکھایا گیا تھا۔ اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اسی بارے میں