القاعدہ انڈیا میں کتنی کامیاب

انڈیا کے مسلمان
Image caption ’بھارت کے مسلمانوں کو مشکلات کے باوجود یہ محسوس ہوتا ہے کہ ملک کا جو بھی سیاسی نظام ہے اس میں ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں‘

بھارت میں گزشتہ دو عشرے سے متعدد شدت پسند تنظیمیں سرگرم رہی ہیں۔ شدت پسند کارروائیوں میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ لیکن کیا شدت پسند تنظیم القاعدہ نے کبھی بھارت کو نشانہ بنایا ہے یا یہ کہ القاعدہ سے بھارت کو کوئی خطرہ لاحق ہے؟

اس کے بارے میں سلامتی کے ماہرین کی آراء منقسم ہیں۔ بھارت میں ایک عرصے سے شدت پسند تنظمیں متحرک رہی ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسی تنظیمیں بھی رہی ہیں جن کے نظریات انتہا پسندی سے متاثر رہے ہیں ۔

دِلّی میں انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ مینیجمنٹ کے سربراہ اجے ساہنی کا خیال ہے کہ القاعدہ بعض تنظیموں کے توسط سے بالواسطہ طور پر بھارت کو نشانہ بناتی رہی ہے۔’خطرہ ایسی ہی تنظیموں سے رہا ہے جو کسی نہ کسی طرح القاعدہ سے جڑی رہی ہیں مثلاً حرکت الجہاد اسلامی اور جیش محمد۔ یہ دو ایسی تنظیمیں ہیں جن کے بارے میں یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ یہ القاعدہ سے جڑی ہوئی تنظیمیں ہیں۔‘

بھارت کے بارے میں ایک عرصے سے بعض شدت پسند تنظیموں اور ان کے حامیوں کے ذریعے یہ پرچار کیا جاتا رہا ہے کہ بھارت ’اسلام کا دشمن‘ ہے اور یہاں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔

مسٹر ساہنی کہتے ہیں کہ اس طرح کے پراپوگینڈے کی وجہ سے بھارت القاعدہ جیسی تنظیموں کے فوری نشانے پر ہے۔’بے شک بھارت ایک عرصے سے نشانے پر رہا ہے۔ القاعدہ سے متعلق لوگ ہندو، عیسائی اور یہودی سازش کی بات کرتے ہیں۔اس میں سیمی اور انڈین مجاہدین جیسی بھارتی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔‘

لیکن سلامتی کے امور کے ایک سرکردہ ماہر پروین سوامی کہتے ہیں کہ بھارت کو نہ تو القاعدہ سے کبھی کوئی خطرہ لاحق تھا اور نہ آئندہ دنوں میں رہے گا۔ ان کا خیال ہے کہ القاعدہ کا مقصد اس سے الگ تھا۔’القاعدہ کا مقصد امریکہ اور برطانیہ میں جہادی عمل کرنا تھا۔ باقی ملکوں میں ان کا کوئی آپریشن نہیں تھا۔ القاعدہ جہادی تحریک کا ایک چھوٹا حصہ تھا جس کو یہ کام سونپا گیا تھا۔‘

پروین سوامی کہتے ہیں کہ بھارت کے حالات کئی بار ایسے ہوئے ہیں جن میں جہادی تنظیموں نے بھارتی مسلمانوں کو ریڈیکلائز کرنے اور انہیں بین الااقوامی دہشت گردی سےمنسلک کرنے کی کوشش کی ہے لیکن انہیں مختلف وجوہات سے ان مقاصد میں ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔’ کشمیر اور گجرات کے واقعات سے ان تنطیموں کو کچھ کامیابی ضرور ملی لیکن اس میں چند ہی نوجوان ان کے ساتھ آئے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بھارت کے مسلمانوں کو مشکلات کے باوجود یہ محسوس ہوتا ہے کہ ملک کا جو بھی سیاسی نظام ہے اس میں ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔‘

بھارت میں کچھ عرصے پہلے تک دینی مدارس کو انتہا پسندی کا مرکز سمجھا جاتا تھا ۔ لیکن پروین سوامی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مدارس قدامت پسندی میں یقین رکھتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کو مذہبی قدامت پسندی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔’جہادی تنظیموں کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ قدامت پسندی کو رد کرتی ہیں۔ انڈیا میں لشکر طیبہ سے جڑے ہوئے انڈین مجاہدین کے جو لڑکے ہیں وہ دیوبند یا کسی مدرسے نہیں آئے تھے۔ ان میں سے اکثر جدید تعلیم سے آراستہ تھے۔ جہادی تحریکوں میں بہت کم لو گ ہیں جو دینی پس منظر سے آئے ہیں۔‘

بھارت میں اسلامی شدت پسند تنظیموں کا تعلق عمومآ کشمیر سے رہا ہے ۔ سلامتی کے امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ کشمیر میں شدت پسندتحریک اب ختم ہو چکی ہے۔ اب جس طرح کی صورتحال پیدہ ہو رہی ہے اس میں القاعدہ جیسی تنظیموں کے خطرے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

اسی بارے میں