کشتی ڈوبنے سے ڈھائی سو ہلاکتوں کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ spl arrangement
Image caption حائے حادثہ کے آس پاس امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو کشتی کے ڈوبنے کے واقعے میں تقریباً ڈھائی سو افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

تین بچوں کی لاشیں پانی سے نکالنے میں کامیابی ملی ہے اور اس طرح اب تک کل ایک سو چھ لاشیں نکالی گئی ہیں

دریا میں پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے لاپتہ افراد کی تلاش میں مشکل کا سامنا ہے۔

امدادی کارروائیوں میں فوج سمیت حکومت کے کئی محکمے حصہ لے رہے ہیں لیکن اس میں زیادہ کامیابی نہیں مل رہی۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق اب بھی سو سے زیادہ لوگ لاپتہ ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ اب ان افراد کے زندہ بچ جانے کے امکانات کم ہیں اور اس حادثے میں ڈھائی سو سے زیادہ لوگوں کی ہلاکتوں کا خدشتہ ہے۔

پولیس کے مطابق چونکہ دریا کا بہاؤ بہت تیز اور پانی گہرا ہے اس لیے امکان اس بات کا ہے کہ بہت سی لاشیں پانی کے ساتھ ہی بہہ گئی ہوں۔

منگل کو پولیس نے کہا تھا کہ کشتی ڈوبنے کے اس واقعے میں کم سے کم ایک سو تین افراد ہلاک ہو گئے۔

پیر کی شام کو یہ حادثہ دریائے برہم پترا میں پیش آیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق کشتی میں کم از کم تین سو پچاس افراد سوار تھے جن میں سے کچھ ہی لوگوں کو زندہ بچایا جا سکا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ طوفانی بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے پیش آیا۔ یہ واقعہ آسام کے بڑے شہر گوہاٹی سے تین سو پچاس کلومیٹر مغرب میں واقع ضلع دھبری میں پیش آیا۔

اس دوران کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے۔