مقدمے پر سمجھوتہ، سپریم کورٹ کو اعتراض

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اطالوی فوجی ابھی بھی بھارت میں قید ہیں

بھارتی سپریم کورٹ نے اطالوی فوجیوں کے ہاتھوں دو بھارتی ماہی گیروں کی ہلاکت کے مقدمے میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ کیےگئے معاہدے پر سخت ناراضی ظاہر کی ہے۔

گزشتہ فروری میں ریاست کیرالا کے ساحلِ پر اطالوی جہاز پر تعینات فوجیوں نے بھارتی ماہی گيروں کو گولی مار دی تھی۔

اس واقعے میں پچیس سالہ آجیش بنکی اور پینتالیس سالہ جلاسٹین ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد زبردست احتجاج ہوا تھا اور دونوں اطالوی فوجیوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔

اطالوی شہری اس وقت سے کیرالا کے ساحلی شہر کوچن کی ایک جیل میں قید ہیں۔ گزشتہ ہفتے متاثرین کے اہل خانہ اور اطالوی حکام میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ہلاک شدہ افراد کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے بطور معاوضہ دیا گيا تھا۔

اس معاہدے کے تحت متاثرین کے اہل خانہ اس معاملے میں اطالوی محافظوں کے خلاف مقدمہ نہیں کریں گے اور اپنا دعوی واپس لے لیں گے۔ حالانکہ اس میں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کے خلاف الگ سے قتل کا مقدمہ چلتا رہے گا۔

یہ معاہدہ کیرالا ہائي کورٹ کی نگرانی میں ایک مقامی عدالت کے سامنے ہوا تھا لیکن پیر کو جب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوا تو عدالت نے اس پر سخت اعتراض کیا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’جس طریقے سے بھارت کے قانونی عمل کو شکست دی گئی اس سے ہمیں بہت تکلیف پہنچی ہے‘۔

سپریم کورٹ میں سماعت در اصل اس بات کی تھی کہ اطالوی جہاز جو اکیس فروری سے بھارتی ساحل پر لنگر انداز ہے اسے جانے کی اجازت ہے یا نہیں۔ اسی مقدمہ کی سماعت کے دوران ریاستی حکومت کے وکیل نے اس معاہدے کے متعلق سپریم کورٹ کو آگاہ کیا۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے حکومت سے پوچھا کہ آخر کيا پیسے کی ادائیگی کے بعد مجرمانہ نوعیت کے مقدموں میں اس طرح کا معاہدہ درست ہے اور کیا یہ قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

فروری میں اطالوی جہاز پر سوار دونوں محافظوں کو جہاز سے ہی حراست میں لیا گيا تھا اور اس وقت سے عدالتی کارروائي جاری ہے۔

جس جہاز سے فائرنگ ہوئی تھی وہ سنگا پور سے مصر کی طرف جا رہا تھا۔ اٹلی کا موقف ہے کہ اس کے محافظوں نے بحری قزاقوں کے خطرے کے پیش نظر گولی چلائی تھی۔

اس کا کہنا ہے کہ اس کے جہاز کے عملے نے اپنے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کیے تھے لیکن بھارت نے اس واقعے کو بہت افسوس ناک قرار دیا تھا۔

اسی مسئلے پر بھارت نے دلی میں اطالوی سفیر کو بھی طلب کیا تھا۔ اس کے بعد اٹلی کے کئي سینئر حکام بھارت کا دورہ کر چکے ہیں اور سفارتی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان کافی بات چيت ہوئي ہے۔

اٹلی کا موقف ہے کہ اس کے شہریوں پر بھارت میں بھارتی قانون کے مطابق مقدمہ نہیں چلا یا جا سکتا کیونکہ جہاز بین الاقوامی سمندری حدود میں تھا۔ لیکن بھارت ان پر مقامی قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس مسئلے پر بھارت اور اٹلی کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے اور سفارتی سطح پر دونوں کے درمیان یہ ایک تنازعہ بھی بنا لیکن بات چيت کے بعد یہ معاہدہ طے پایا۔

اسی بارے میں