ممتا مرکز میں حکومت گرانے کی حامی نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہم سمجھتے ہیں کہ آواز اٹھانا ہمارا اخلاقی فرض ہے: ممتا بنرجی

مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ وہ مرکز میں حکومت نہیں گرانا چاہتی لیکن ان کے بقول اتحادیوں کی سیاست میں اہم فیصلے کرنے سے پہلے اتحادی جماعتوں کا مشورہ لیا جانا چاہیے۔

بی بی سی سے بات چیت میں ممتا بنرجی نے کہا کہ ترنمول کانگریس مرکز میں برسر اقتدار یو پی اے اتحاد کی سب سے بڑی اتحادی پارٹی ہے اس لیے جب انہیں لگتا ہے کہ کچھ غلط ہو رہا ہے تو وہ آواز اٹھاتی ہیں۔

انہوں نے کہا ’میں نہیں چاہتی کی ہر چھ ماہ، ایک یا دو سال میں حکومتیں گریں۔ میں اس میں یقین نہیں رکھتی۔ لیکن جب مخلوط حکومت ہو تو اتحادی جماعتوں سے مشورہ لیا جانا چاہیے کیونکہ وہ حکومت کا حصہ ہوتی ہیں۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ آواز اٹھانا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔‘

بھارتی سیاست میں علاقائی جماعتوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہ اب ایک پارٹی کا راج نہیں ہو سکتا کیونکہ کانگریس اور بی جے پی ملک کے کئی حصوں میں اپنی بنیادی حیثیت کھو چکی ہیں۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ لوگ علاقائی قیادت پر دہلی کی قیادت سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ ہر علاقے کی اپنی الگ خواہشات ہوتی ہیں۔

ترنمول کانگریس غیر ملکی سرمایہ کاری کی مخالفت کرتی ہے اور یو پی اے حکومت کو اعلان کرنے کے بعد یہ فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔ ساتھ ہی یہ پارٹی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے مسئلے پر بھی مرکزی حکومت سے الگ رائے کا اظہار کرتی رہی ہے۔

مہنگائی پر مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی کہتی ہیں ’مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔ قیمتیں بڑھانا آسان متبادل ہے لیکن یہ حل نہیں ہے۔ ملک کا آدھا حصہ چھوٹی دکانوں پر انحصار کرتا ہے۔ خدشہ ہے کہ خوردہ مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے عام آدمی کے روزگار کے مواقعوں کو دھچکا لگے گا۔ ہمیں موجودہ نظام کو نہیں تبدیل کرنا چاہیے۔‘

حال ہی میں امریکی جریدے ٹائمز نے ممتا بنرجی کو دنیا کے ایک سو با اثر افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

اپنی سیاست اور کام کرنے کی طریقوں پر وہ کہتی ہیں ’کچھ سیاستدان اپنے وعدے پورے نہیں کرتے لیکن میں سو فیصد یقین سے کام کرتی ہوں۔ گزشتہ دس ماہ میں میں نے جو کہا ہے اس میں سے ننانوے فیصد کر کے دکھایا ہے اور مجھے اس بات پر فخر ہے۔‘

اسی بارے میں