جعلی مقابلے: ’فوجیوں پرمقدمہ چلائیں‘

کشمیر
Image caption ملزمان کو قانون کے تحت سخت ترین سزائیں دی جائیں: عدالت

بھارت کی سپریم کورٹ نے فوجی حکام سے کہا ہے کہ آسام اور بھارت کے زیر انتطام کشمیر میں فوج کے جن اہلکاروں پر فرضی تصادم کے الزامات ہیں ان پر کورٹ مارشل کے طریقۂ کار سے مقدمہ چلایا جائے یا معمول کی فوجداری عدالت میں ان کے مقدمے کی سماعت کی جائے ۔

‏عدالت عظمٰی نے فوج کو یہ ہدایت کشمیر میں پتھری بل کے مقام پر بارہ برس قبل ایک مبینہ فرضی مقابلے کے معاملے کی سماعت کے دوران کی ہے ا س واقعے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ بعد میں ایک تفتیش میں اس واقعے کو فرضی تصادم قرار دیا گیا تھا لیکن ابھی تک ملزم اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی ہے۔

آسام کے بیشتر علاقوں اور کشمیر میں فوج کو سپیشل پاور ایکٹ کے تحت خصوصی اختیارات حاصل ہیں جن کے تحت فرضی مقابلوں اور جنسی زیادتی جیسے جرائم کے الزامات پر بھی ملزم فوجی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے مرکزی حکومت سے اجازت لینا لازمی ہے۔

‏دلی سے نامہ نگار شکیل اختر کا کہنا ہے کہ عدالت عظٰمی کی دو ججوں پر مشتمل بنچ نے فوج کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوجی حکام ملزم فوجیوں کے خلاف کورٹ مارشل کا عمل شروع کرنے کے حق میں نہیں ہیں تو سی بی آئی ان اہلکارون کے خلاف معمول کی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے مرکز سے اجازت حاصل کر سکتی ہے ۔اس صورت میں مرکز کو تین مہینے کے اندر اجازت دینی ہو گی۔

سی بی آئی نے اس سے قبل اپنی دلیل میں کہا تھا کہ یہ فرضی مقابلوں کا نہیں بلکہ سفاکانہ قتل کا معاملہ ہے اور ملزم افسروں کو مثالی سزائیں دی جانی چاہئیں۔

سی بی آئی نے مزید کہا تھا کہ فوجی افسروں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کسی پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے عمل میں عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ملزموں پر مقدمہ چلایا جائے۔

سی بی آئی کے وکیل نے کہا ’ہماری تفتیش سے یہ واضح ہے کہ یہ ایک فرضی تصادم اور سفاکانہ قتل تھا اور قانون کی بالا دستی اور انصاف کے عمل میں عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملزموں کو قانون کے تحت سخت ترین سزائیں دی جائیں‘۔

مرکزی حکومت نے فرضی مقابلوں کے الزام سے انکار کیا ہے اور عدالت میں یہ دلیل دی تھی کہ فوجی اہلکاروں کو اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران اس طرح کی قانونی کارروائیوں سے تحفظ حاصل ہے۔

کشمیر میں خصوصی فوجی اختیارات کا قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ (افسپا) نافذ ہے۔ اس قانون کی رو سے بھارتی فوجی اہلکاروں پر فرضی جھڑپوں کے الزامات کی تفتیش کے لیے کشمیر کی حکومت کو مرکزی حکومت سے باقاعدہ اجازت لینی پڑتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ فرضی جھڑپوں اور جنسی زیادتی کے ثابت شدہ الزامات پر مبنی پچاس معاملات میں مرکزی حکومت سے قانونی مواخذے کی اجازت طلب کی گئی تھی، لیکن ایک بھی معاملہ میں اجازت نہیں ملی۔

اُدھر فوج کا کہنا ہے کہ کشمیر کی حکومت نے صرف چوالیس معاملات پیش کیے، جن میں سے پینتیس کو ’ناکافی شواہد‘ کی بنا پر مسترد کیا گیا جبکہ نو معاملات ’زیر غور‘ہیں۔

کشمیر میں فوجی اختیارات کے قانون (افسپا) کو ختم کرنے کی سیاسی بحث کئی سال سے جاری ہے۔ ریاست کے وزیر اعلٰی عمر عبداللہ اور علیٰحدگی پسند تنظیموں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں مسلح تشدد کا خاتمہ ہوچکا ہے، لہٰذا یہ قانون ختم چاہیئے۔ لیکن فوجی حکام اس مطالبہ کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن کے ذریعہ مسلح دراندازی کا خطرہ موجود ہے اور کشمیر میں تعیناتی کے دوران فوج کو قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔

افسپا کشمیر کے ساتھ ساتھ شمال مشرقی ریاستوں خاص طور پر آسام میں بھی نافذ ہے۔ پچھلے سال آسام کے بعض رضاکاروں نے کشمیر سے آسام تک ایک امن مارچ کا اہتمام کیا جس کے دوران اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیاتھا۔

اسی بارے میں