راجیو کے قاتلوں کا مقدمہ سپریم کورٹ میں

راجیو گاندھی
Image caption راجیو گاندھی کے قتل کے الزام میں مجرم پائے گئے افراد کو گزشتہ برس ستمبر میں ہی پھانسی دی جانی تھی

بھارتی سپریم کورٹ نے ملک کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے مجرموں کی معافی کی درخواست سے متعلق مقدمہ کی سماعت خود کرنے کا کا فیصلہ کیا ہے۔

راجیو گاندھی کے قتل کے الزام میں مجرم قرار دیے گئے ستھن، مرگن اور پیراریولن کوگزشتہ سال ستمبر میں ہی پھانسی دی جانی تھی۔

لیکن ان کی جانب سے اس بنیاد پر معافی کی اپیل دائر کی گئی تھی کہ ان کی رحم کی اپیل پرگيارہ برس کے بعد صدر نے فیصلہ سنایا اس لیے انہیں موت کی سزا نا دی جائے۔ مدراس ہائی کورٹ میں معافی کی یہ اپیل بغیر کسی فیصلے کے کے یونہی پڑی ہے۔

منگل کو اسی مقدمے کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس سے متعلق کیس کی سماعت خود کرےگي۔ عدالت نے کیس ریاست تمل ناڈو سے منتقل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

صدر پرتیبھا پاٹل نے راجیوگاندھی کے تینوں قاتلوں کی معافی کی درخواست کوگزشتہ سال مسترد کیا تھا اور اسی کے بعد مدراس ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

ریاست تمل ناڈو میں راجیو گاندھی کے قاتلوں کی پھانسی کی سزا ایک سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔ تمل ناڈو کی اسمبلی نے اس سلسلے میں ایک قرارداد بھی منظور کی تھی جس میں صدر سے اپیل کی گئی کہ ان تینوں کو پھانسی نہ دی جائے۔

تمل ناڈو کی تقریباً ساری سیاسی جماعتیں بھی پھانسی نہ دینے کے حق میں ہیں اور سابق وزیراعلیٰ کرونا ندھی نے تو یہاں تک کہا تھا کہ اگر ان لوگوں کی موت کی سزا منسوخ کر دی جاتی ہے تو تمل لوگ خوش ہوں گے۔

بھارت کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی اکیس مئی انیس سو اکیانوے کو ایک خودکش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

سپریم کورٹ نے سال 1999 میں مجرموں کو موت کی سزا کی توثیق کی تھی۔ بعد میں نلنی کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

موت کی سزا پانے والے تین لوگوں پر خود کش حملے کی سازش کرنے اور اسے انجام تک پہنچانے کا الزام تھا۔ ان کے ساتھ اس حملے میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں