آروشی قتل معاملہ، ماں کی ضمانت مسترد

آروشی تلوار کے والدین
Image caption آروشی تلوار کے والدین اپنے آپ کو بے قصور بتاتے رہے ہیں

بھارتی ریاست اترپردیش میں سنہ 2008 میں ہونے والے آروشی تلوار قتل کیس میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے آروشی کی ماں نوپر تلوار کی ضمانت مسترد کردی ہے۔

محترمہ تلوار نے اپنی ہی بیٹی کے قتل کے معاملے میں پیر کو سی بی آئی کی عدالت میں خود کو پیش کیا تھا اور ضمانت کی درخواست دی تھی۔

لیکن عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں محترمہ تلوار پر قتل کا الزام ہے اور اگر انہیں ضمانت دی گئی تو وہ شواہد سے چھیڑ چھاڑ کر سکتی ہیں اس لیے انہیں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

اس سے قبل خصوصی عدالت نے نوپر تلوار کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

سنہ دوہزار آٹھ میں آروشی تلوار اور گھر کے نوکر ہیمراج کا قتل ہوا تھا ارو ان دونوں کی خون میں لت پت لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

آروشی کے والدین بھی اسی گھر میں موجود تھے۔

واضح رہے کہ اس مقدمے کی ابتدائی تفتیش دلی کے علاقے نوئیڈا کی پولیس نے کی تھی اور اس نے اپنی رپورٹ میں قتل کا ذمہ دار آروشی کے والد راجیش تلوار کو ٹھہرایا تھا۔

سی بی آئی نے غازی آباد کی عدالت میں جو تیس صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کی تھی اس میں بھی آروشی کے قتل میں والدین پر شک ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن ادارے کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے بیشتر ثبوت مٹا دیے گئے ہیں اس لیے مقدمہ بند کر دیا جائے۔

آروشی کو پندرہ مئی سنہ دو ہزار آٹھ کی رات ان کے گھر کے اندر ان کے کمرے میں ہی قتل کر دیا گیا تھا۔

جبکہ گھر کے ملازم ہیم راج کی لاش چھت سے برآمد ہوئی تھی۔

آروشی قتل کیس میں ہندوستانی میڈیا نےگہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا اور ٹی وی چینلز پر یہ خبر کئی مہینوں تک نشر ہوتی رہی تھی۔

تفتیش کے دوران ایجنسیاں اس ہتھیار کا بھی پتہ نہیں لگا پائی تھیں جس سے آروشی کا گلا کاٹا گیا تھا۔ آروشی کا فون بھی پندرہ مہینے بعد ملا تھا اور اس کی میموری سے ڈیٹا مِٹا دیا گیا تھا۔

غازی آباد کورٹ نے اس معاملے میں نوپر تلوار کے غیر حاضر ہونے کی وجہ سے ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے نوپر تلوار نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی اور وہاں بھی عدالت نے نوپر تلوار کو ٹرائل کورٹ کے سامنے خود سپردگی کرنے کو کہا تھا۔

سپریم کورٹ نے نوپر تلوار کے خلاف غازی آباد کے ٹرائل کورٹ کی طرف سے جاری وارنٹ پر حکمِ امتناعی جاری کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

سی بی آئی نے الزام لگایا تھا کہ نوپر تلوار مختلف عدالتوں میں اپیل دائر کر کے معاملے کو الجھانا چاہتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ذیلی عدالت کے اس حکم کو برقرار رکھا تھا جس میں نوپر اور راجیش تلوار کو آروشی قتل سے متعلق مقدمے میں عدالت میں حاضر ہونے کو کہا گیا تھا۔

اسی بارے میں