’تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں،

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حادثے میں اب تک ایک سو پچاس افراد کو بچا لیا گیا ہے

بھارت کی حکمران جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بدھ کو شمال مشرقی ریاست آسام کا دورہ کیا۔

انہوں نے آسام میں پیر کو کشتی ڈوبنے کے واقعے میں لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ ملاقات کی۔

راہول گاندھی نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کروائی کہ حکام لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق امدادی کارکنوں کو دریا سے مزید پانچ لاشیں ملی ہیں۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پیر کو کشتی ڈوبنے سے مرنے والے افراد کی تعداد ایک سو آٹھ تک پہنچ گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اب بھی سو سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں اور ان کے بچنے کے امکانات کم ہو تے جا رہے ہیں۔

اس حادثے میں اب تک ایک سو پچاس افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ آسام کے شہر گوہاٹی سے تین سو پچاس کلومیٹر مغرب میں واقع ضلع دھبری میں پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد کشتی ٹوٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق کشتی ٹوٹنے کے بعد متعدد مسافر پانی میں بہہ گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ متعدد لاشیں دریا میں بہہ گئیں۔

پولیس کے مطابق کشتی میں گنجائیش سے زیادہ افراد سوار تھے اور اس میں زندگی بچانے والی جیکٹیں بھی نہیں تھیں۔

پولیس حکام کے مطابق کشتی میں کم از کم تین سو پچاس افراد سوار تھے جن میں سے کچھ ہی لوگوں کو زندہ بچایا جا سکا۔

اسی بارے میں