بھارت: صدر کے انتخابات پر بحث تیز

پرتبھا پاٹل تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پرتبھا پاٹل بھارت کی پہلی خاتون صدر ہیں۔ انکے عہدے کی مدت پچیس جولائی کو ختم ہورہی ہے

بھارت میں اب اس سوال پر بحث تیز ہوتی جارہی ہے کہ ملک کا اگلا صدر کون بنے گا لیکن کچھ علاقائی جماعتوں نے یہ واضح عندیہ دیا ہے کہ وہ سربراہ مملکت کا عہدہ کسی مسلمان کو سونپنے کے حق میں ہیں۔

ممکنہ امیدواروں کی فہرست اگرچہ روز بہ روز لمبی ہوتی جارہی ہے لیکن حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کسی امیدوار کے نام پر اتفاق ہونے کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے۔ اور لگتا ہے کہ صدر کے عہدے کے لیے باقاعدہ انتخاب کی ضرورت پیش آئے گی۔

صدر پرتبھا پاٹل کے عہدے کی مدت پچیس جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

بھارت میں عام طور پر صدر کے عہدے کو سیاست سے الگ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن سن دو ہزار سات میں جب کانگریس نے پرتبھا پاٹل کو اپنا امیدوار بنایا تھا تو بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے سینئر لیڈر بھیروں سنگھ شیخاوت کو میدان میں اتارا تھا۔ اس وقت پرتبھا پاٹل آسانی سے جیت گئی تھیں لیکن اب ملک کا سیاسی منظرنامہ بدلا ہوا ہے۔

حکمراں یو پی اے اور اپوزیشن کے اتحاد این ڈی اے، دونوں کے اندر اختلافات ہیں اور اس مرتبہ نمبروں کا کھیل کچھ ایسا ہے کہ کانگریس اپنے امیدوار کی کامیابی کو یقینی نہیں بنا سکتی۔ صدر کے عہدے کے لیے پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں کے تمام منتخب اراکین ووٹ ڈالنے کے مجاز ہوتے ہیں۔

اس الیکشن میں فیصلہ کن رول سماجوادی پارٹی، ترنمول کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی جیسی علاقائی جماعتوں کا ہوگا۔ یہ تینوں ہی پارٹیاں وفاقی حکومت کی حمایت کرتی ہیں اور کانگریس کو امیدوار کا انتخاب کرتے وقت ان اتحادی جماعتوں کے سامنے جھکنا پڑسکتا ہے۔

سماجوادی پارٹی اور لالو پرساد یادو کی راشٹریہ جنتا دل نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مسلمان امیدوار کے حق میں ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے ترجمان کمال فاروقی کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات میں مسلمانوں نے پارٹی کی بھرپور حمایت کی تھی اور وہ ایک مسلمان امیدوار کو صدر بنانے کے حق میں ہے۔ پارٹی نے صدر کے عہدے کے لیے چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کے نام کا بھی ذکر کیا ہے۔ لالو پرساد یادو نائب صدر حامد انصاری کے حق میں ہیں۔

بی جے پی پہلے ہی سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کا ذکر کر چکی ہے لیکن وہ اپنا کوئی امیدوار میدان میں اتارنے کے بجائے کسی علاقائی جماعت کے امیدوار کی حمایت کرنا چاہتی ہے کیونکہ بقول اس کے ’کچھ جماعتوں کو بی جے پی کے امیدوار کی حمایت کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی علاقائی جماعت عبدالکلام کا نام پیش کرتی ہے تو وہ ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔

Image caption صدر کے عہدے کے اہم امیدواروں میں سابق صدر اے پی جے ابوالکلام اور سید حامد انصاری کے نام شامل ہیں

مبصرین کے مطابق کانگریس سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کے حق میں نہیں ہے لیکن پارٹی کے ترجمان منیش تیواڑی کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور صرف اتحادی جماعتوں سے صلاح مشورے کا عمل جاری ہے۔

لیکن بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کی جانب سے نائب صدر حامد انصاری، لوک سبھا کی سپیکر میرا کمار اور وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے ناموں پر غور کیا گیا ہے۔ ابھی یہ پوری طرح واضح نہیں ہے کہ پرنب مکھرجی سرگرم سیاست چھوڑنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی کوشش کانگریس کی اتحادی جماعتوں کو اس سے الگ کرنے کی ہے کیونکہ کانگریس کی حکومت مشکل وقت سے گزر رہی ہے اور ایسے میں صدر کے انتخاب میں اگر اسے دھچکہ لگتا ہے تو اس کے لیے اقتدار میں قائم رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

سربراہ مملکت کے لیے آئی ٹی کی کمپنی انفوسیس کے سابق سربراہ نارائن مورتی کا نام بھی تجویز کیا گیا ہے۔ سابق صدر عبدالکلام کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ اس وقت تک تیار نہیں ہوں گے جب تک ان کے نام پر اتفاق رائے نہیں ہو جاتا اور مبصرین کے مطابق ایسا لگتا نہیں ہے کہ کانگریس ان کے نام پر تیار ہوگی۔

ایسے میں شاید تین یا چار نام باقی رہ جائیں گے جن پر کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں میں اتفاق ہوسکتا ہے۔ نائب صدر حامد انصاری، وزیر خزانہ پرنب مکھرجی، چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی اور لوک سبھا کی سپیکر میرا کمار۔

لیکن شاید کانگریس حتمی فیصلہ مغربی بنگال کی وزیر اعلٰی ممتا بنرجی سے صلاح مشورے کے بعد ہی کرے گی اور اگر وہ بھی کسی مسلمان امیدوار کے حق میں رائے ظاہر کرتی ہے تو ڈاکٹر ذاکر حسین، فخر الدین علی احمد اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے بعد ملک میں چوتھی مرتبہ کسی مسلمان کے صدر بننے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں