سچن کی نامزدگی پر انّا ہزارے کی تنقید

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 مئ 2012 ,‭ 08:32 GMT 13:32 PST

سچن جلد ہی بھارتی پارلیمان کے رکن بننے والے ہیں

بھارت کے سرکردہ سماجی کارکن انّا ہزارے نے بھی کرکٹ کھلاڑی سچن تندولکر کو پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کی رکنیت کے لیے نامزدگی پر حکومت کی نکتہ چینی کی ہے۔

انا ہزارے کا کہنا ہے کہ اگر سچن تندولکر کو عزت بخشنی تھی تو حکومت انہیں بھارت رتن جیسے بڑے اعزاز سے نوازتی، راجیہ سبھا کی رکنیت کی نامزدگی کی خبر سے انہیں تکلیف پہنچي ہے۔

ریاست مہاراشٹر کے شہر اورنگ باد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انا ہزارے نے کہا ’مجھے اس سے تکلیف پہنچی کہ ہم لوگ انہیں بھارت رتن دینے کی بات کہہ رہے تھے اور انہیں دی راجیہ سبھا کی رکنیت۔‘

انا ہزارے نے کہا ’اس میں مجھے تھوڑی گڑ بڑی نظر آرہی ہے۔ ان (حکومت) کا ارادہ ٹھیک نہیں ہے، اگر ان کی عزت کرنا تھی تو بھارت رتن کیوں نہیں دیا؟ راجیہ سبھا کی رکنیت کیوں دی؟

اس سے قبل شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے بھی اسی مسئلے پر کانگریس پارٹی اور سچن تندولکر پر تنقید کی تھی۔

صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں بال ٹھاکرے نے کانگریس پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا ’یہ پارٹی کا سب سےگندہ کھیل ہے، حقیقی ڈرٹی پکچر یہی ہے۔‘

گزشتہ ہفتے صدر پرتیبھا پاٹل نے سچن تندولکر کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا تھا۔ انتالیس سالہ تندولکر کھیل کی دنیا کی پہلی شخصیت ہیں جو راجیہ سبھا کے رکن بنیں گے۔

بھارتی قانون کے مطابق پارلیمان کی چند نشستیں ملک کی ان سرکردہ شخصیات کے لیے مخصوص ہیں جنہوں نے ملک کی خدمت کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیے ہوں۔

اس فہرست میں، ادیب، فنکار، سماجی کارکنان اور کھلاڑیوں جیسی شخصیات کے نام شامل ہوتے ہیں جنہیں صدر نامزد کرتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔