پاکستان جانے کی امید بندھ گئی ہے: خلیل چشتی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرکے کہا ہے کہ معمر پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر خلیل چشتی کی جانب سے وطن واپسی کی درخواست پر وہ اپنا موقف واضح کرے۔

ڈاکٹر چشتی بیس سال پہلے بھارت آئے تھے اور تب سے ہی قتل کے ایک مقدمے میں پھنس جانے کی وجہ سے واپس نہیں جاسکے ہیں۔ ان کی عمر اسی سال سے زیادہ ہے اور ان کی صحت کافی خراب ہے۔

سپریم کورٹ میں ڈاکٹر چشتی کے وکیل نیتن سنگرا نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان جانے کی اجازت مانگی ہے اور اس سلسلے میں عدالت نے حکومت سے سات مئی تک جواب طلب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ڈاکٹر چشتی بیس سال سےبھارت میں ہیں۔ پہلے بھی جب وہ ضمانت پرتھے تو پاکستان نہیں جاسکتے تھے، اب بنیادی طور ہم نے عدالت سے درخواست کی ہےکہ جب تک معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، انہیں پاکستان جانے کی اجازت دیدی جائے کیونکہ وہ لمبے عرصے سے اپنے اہل خانہ سے جدا ہیں۔‘

انییس سو بانوے میں ڈاکٹر چشتی اپنی والدہ اور بھائی سے ملنے اجمیر آئے تھے لیکن وہاں ایک جھگڑے کے دوران ایک شخص کی موت کے بعد قتل کے کیس میں گھر گئے اور واپس نہیں جاسکے۔ اس کیس میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اگرچہ ضمانت پر رہائی کے دوران وہ اجمیر سے باہر نہیں جاسکتے لیکن پاکستان جانے کی اجازت لینے کے لیے وہ عدالت سے دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں۔

عدالت کے نوٹس کے بعد ڈاکٹر چشتی نے کہا کہ کراچی واپس لوٹنے کی ان کی امید ایک مرتبہ دوبارہ پیدا ہو گئی ہے اور یہ کہ اجمیر میں اب وہ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

انہوں نےکہا ’اپنی جانب سے میں کیا کہہ سکتا ہوں، مجبوری ہی ظاہر کرسکتا ہوں۔ بیس اکیس سال سے پھنسا ہوا ہوں، اپنے بیوی بچوں سے دور ہوں اور ایک طرح سے بھیک پر ہی گزارا ہو رہا ہے کیونکہ میں اپنے بھائی کا مجبور ہوں۔ کھانا پینا سب انہیں کے یہاں سے چلتا ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی میں وہ اپنے اہل خانہ کو بس یہ یقین دلاتے رہتے ہیں کہ وہ جلدی ہی واپس آجائیں گے لیکن ان کے کیس میں پیش رفت کی رفتار بہت سست ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں کافی عرصے سے ڈاکٹر چشتی کو پاکستان واپس بھیجنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ گزشتہ برس سپریم کورٹ کے جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بھی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو خط لکھ کر یہ اپیل کی تھی کہ انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کر دیا جائے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی اپریل میں وزیر اعظم سے ڈاکٹر چشتی کی رہائی کی وکالت کی تھی۔

لیکن پیرکو حکومت کے جواب سے ہی پتہ چلے گا کہ ڈاکٹر چشتی کا انتظار کب ختم ہوگا۔

اسی بارے میں