’کنڈوم کے بغیر جنسی عمل،طلاق کی بنیاد نہیں‘

ممبئی کی ہائی کورٹ نے ایک دلچسپ فیصلے میں کہا ہے کہ اگر بیوی اپنے شوہر کے ساتھ کنڈوم کے بغیر جنسی عمل سے انکار کر دیتی ہے تو اسے طلاق کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالت ایک شہری پردیپ باپٹ کی جانب سے طلاق کی درخواست پر غور کر رہی تھی۔

ان کا دعویٰ تھا کہ شادی کے بعد ہنی مون کے دوران ان کی بیوی پریرنا نے ان کے ساتھ جنسی عمل سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ کنڈوم کا استعمال نہیں کرنا چاہتے تھے۔

مسٹر باپٹ کا الزام تھا کہ ان کی بیوی مالی طور پر مستحکم ہونے سے پہلے بچے پیدا کرنے کے حق میں نہیں تھیں اور نہ ہی انہیں صفائی اور کھانا بنانے جیسے گھر کے کام آتے ہیں لہذٰا انہیں طلاق دی جانی چاہیے۔

لیکن ججوں نے ان کی دلائل سے اتفاق نہیں کیا۔

پردیپ اور پریرنا کی شادی فروری دو ہزار سات میں ہوئی تھی لیکن اسی سال جون میں پریرنا اپنی سسرال سے چلی گئی تھیں۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا کےمطابق جسٹس بی پی مجمودار نے کہا کہ ’بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ مشترکہ ہونا چاہیے اور شوہر اس پر اسرار نہیں کر سکتا۔پریرنا بچے کو ایک بہتر زندگی دینا چاہتی تھی۔‘

مسٹر باپت کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے جو گھر کا کام کاج بھی سنبھالے۔

لیکن جج نے کہا کہ’ عورت غلام نہیں ہوتی۔ آپ نے شادی شدہ زندگی کے (روز مرہ کے) مسائل کی بنیاد پر طلاق کی درخواست کی ہے، اگر ہم ان مسائل کو ظلم کے زمرے میں شامل کرنے لگیں تو کوئی شادی محفوظ نہیں رہے گی۔‘

عدالت نے یہ مشورہ بھی دیا کہ شادی سے پہلے لڑکے لڑکی کو ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے خاص طور پر جب شادی والدین طے کر رہے ہوں۔

اسی بارے میں