گجرات، ' مودی پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے'

آخری وقت اشاعت:  پير 7 مئ 2012 ,‭ 14:02 GMT 19:02 PST
ذکیہ جعفری

مودی کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے

بھارتی سپریم کورٹ کے مقرر کردہ معاون وکیل راجیو رام چندرن کا کہنا ہے کہ گجرات کے فسادات میں نریندر مودی کے ملوث ہونے کے الزامات کے بارے میں مزید تفتیش ہونی چاہیے اور یہ کہ واقعاتی شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے۔

عدالت عظمی کے مقررکردہ سینیئر وکیل راجیو رام چندرن نے اپنی جو رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی ہے اس میں کہا گيا ہے کہ ’مسٹر مودی کے خلاف، اس ابتدائي مرحلے میں، جو مقدمہ بنتا ہے اس میں مختلف گروپوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلانا اور امن کے قیام کے لیے امتیازی کارروائی کرنا شامل ہے۔‘

مسٹر چندرن نے اپنی تفتیش سے جو نتیجہ نکالا ہے وہ اس خصوصی تفتیشی ٹیم ( ایس آئی ٹی ) سے الگ ہے جس میں مودی کو کلین چٹ دی گئی ہے۔

ایس آئي ٹی کو بھی سپریم کورٹ نے اس بات کی تفتیش کے لیے متعین کیا تھا کہ فسادات میں مسٹر مودی کے کردار کے متعلق پتہ کر سکے اور اس نے اپنی رپورٹ میں یہ کہا تھا کہ نریندر مودی کے خلاف مقدمہ چلانے لائق کوئي ثبوت نہیں ہے۔

راجیو رام چندرن کا کہنا ہے کہ معطل کیےگئے پولیس افسر سنجیو بھٹ کے ان دعوؤں پر مزید توجہ دینی کی ضرورت ہے جنہیں ایس آئی ٹی نے مسترد کر دیا ہے۔

مسٹر بھٹ کا کہنا ہے کہ ستائس فروری دو ہزار دو گودھرا ٹرین واقعے کے بعد، جس میں اٹھاون کارسیوک مارے گئے تھے، مسٹر مودی نے اپنی رہائش گاہ پر سینیئر پولیس افسران کی ایک میٹنگ طلب کی تھی اور ان سے کہا تھا کہ ہندوؤں کو انہیں اپنا غصہ نکالنے کی اجازت دی جائے۔

راجو رام چندرن کا کہنا ہے کہ ’امن و قانون کے لیے صبح تقریباً گیارہ بجے وزیراعلی نریندر مودی کے ذریعے میٹنگ طلب کی گئی تھی۔ اور یہ فطری بات ہے کہ جس افسر کا تعلق شعبہ انٹیلیجنس سے ہے اسے اس میں بلایا گیا ہو۔ مسٹر بھٹ نے ایس آئي ٹی کو جو بھی بتایا ہے اس کی فون کی ریکارڈ سے بھی نفی نہیں ہوتی ہے۔‘

حالانکہ ایس آئی ٹی نے مسٹر بھٹ کے دعوؤں کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ چونکہ دوسرے افسران نے اس میٹنگ میں مسٹر بھٹ کی موجودگی سے انکار کیا ہے اس لیے دعوے میں کوئی میرٹ نہیں ہے۔

مسٹر چندرن نے مزید کہا ’میں ایس آئی ٹی کے اس موقف سے متفق نہیں کہ ابتدائي مرحلے میں ہی مسٹر بھٹ کے بیان پر یقین نا کیا جائے۔ بلکہ میرے خیال سے مسٹر بھٹ کے بیان کو جرح کی کسوٹی پر چانچنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عدالت کو کرنے کا حق ہے کہ آیا مسٹر بھٹ کے بیان کو قابل اعتبار سمجھا جائے یا نہیں۔

عدالت کے احکامات کے مطابق ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو بھی آچ ذکیہ جعفری کے حوالے کر دیا گيا ہے۔ محترمہ جعفری کی ہی درخواست پر سپریم کورٹ نے مودی کے کردار کی تفتیش کے احکامات دیے تھے۔

سپریم کورٹ نےگلبرگ سوسائٹی کے قتل عام کیس کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی تھی۔

احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی میں فسادات کے دوران کانگریس کے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری سمیت انہتر افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔

احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کا مطالبہ تھا کہ اس کیس میں وزیراعلیٰ نریندر مودی اور کئی دیگر اعلیٰ سرکاری افسران کو بھی ملزم بنایا جانا چاہیے۔ بقول ان کے نریندر مودی نے دانستہ طور پر فسادات کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

ذکیہ جعفری نے جب اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو عدالت نے اپنی نگرانی میں ایس آئی ٹی سے تفتیش کرانے کا فیصلہ کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔