امریکہ کی بھارت کےعلاقائی لیڈروں سے براہ راست ملاقاتیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی وزیرِ خارجہ بھارت کے دورہ پر کولکتہ پہنچیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کی حالیہ دورہِ بھارت میں مغربی بنگال کی وزیرِ اعلٰی ممتا بینرجی سے ملاقات صرف دو کامیاب خواتین سیاستدانوں کی ملاقات نہیں تھی۔

امریکی وزراءِ خارجہ بغیر امریکی مفاد کے دوستیاں بڑھانے کے لیے معروف نہیں۔ جولائی دو ہزار گیارہ میں ہیلری کلنٹن نے ایک ایسی ہی ملاقات تامل ناڈو کی وزیرِ اعلٰی جے للیتا سے کی تھی۔ان دونوں ملاقاتوں میں خارجہ پالیسی کے اہم موضوع زیرِ بحث آئے۔

وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی کا کہنا ہے کہ ہلری کلنٹن نے بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین دریائے تیستا کے مسئلہ یا ریٹیل مارکیٹ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے موضوعات کو نہیں اٹھایا۔

تاہم امریکی وزیرِ خارجہ نے ان دونوں موضوعات کے بارے میں اپنی رائے کا بہت واضح اظہار، کلکتہ میں دیے ایک ٹی وی انٹرویو میں ایک روز قبل ہی کر دیا تھا۔وہ اس بات سے واقف تھیں کہ وزیرِاعلیٰ وفاقی حکومت کے ان دونوں اقدامات کی مخالفت کر چکی ہیں۔ ممتا بینرجی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کی حکومت میں ایک اہم اتحادی جماعت ترنمول کانگرس پارٹی کی سربراہ بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہیلری کلنٹن نے گزشتہ سال ایک ایسی ہی ملاقات تامل ناڈو کی وزیرِ اعلٰی جے جایالالیتا سے کی تھی۔

گزشتہ جولائی کی تامل ناڈو کی وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ ملاقات میں بھی ہلری کلنٹن نے ایک خارجہ پالیسی کے موضوع پر بات کی تھی۔اس ملاقات میں سری لنکا کی حکومت پر تامل برادری کے بارے میں دباؤ ڈالنے کے طریقوں پر غور کیا گیا تھا۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ خارجہ پالیسی کے کچھ اہداف صرف دلی کی ایک کمزور وفاقی حکومت کے ذریعے ہی حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

ان کو یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ اندرونی سیاسی مجبوریاں بھارتی خارجہ پالیسی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور کبھی کبھی اپنی مرضی کے نتائج کے لیے علاقائی طاقتوں کو احساسِ اہمیت دینا پڑتا ہے۔

دوسری طرف خارجہ پالیسی کا ریاستی مفادات یا علاقائی سیاستدانوں کے مقامی ایجنڈا کے پیشِ نظر بنائے جانے کی بھی مثالیں موجود ہیں۔

تامل ناڈو کی کابینہ نے ماضی میں کودامکولان جوہری بجلی گھر پر مظاہرین کی وجہ سے کام روکے جانے کے بعد دوبارہ شروع کرنے کے خلاف ایک قرارداد کی منظوری یہ جانتے ہوئے دے دی تھی کہ اس سے بھارت اور روس کے تعلقات پر اثر پڑے گا۔

بعد میں وزیرِ اعلٰی جے للیتا نے اس پر اپنا موقف تبدیل کر لیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے اس کے عوض بھارت کا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن میں تمل حقوق کے معاملے پر سری لنکا کے خلاف ووٹ لیا تھا۔

مرکزی حکومت کی اتحادی ایک اور علاقائی تمل جماعت ڈی ایم کے نے بھی حکومت کو سری لنکا کی اقوام متحدہ قرارداد پر امریکہ کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کا کہا تھا۔ اس سے پہلے بھارت نے کسی بھی مخصوص ملک کے بارے میں کسی اقوام متحدہ کی قرارداد پر ووٹ نہ ڈالنے کو ہی بہتر سمجھا۔

ادھر شمال میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جموں اور کشمیر کی ریاستی قانون ساز اسمبلی اکثر پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ منقطع کرنے پر غور کرتی رہتی ہے کیونکہ کچھ کشمیری اسے غیر منصفانہ معاہدہ مانتے ہیں۔

یہ وہ مثالیں ہیں جب ریاستوں کو ایسے موضوعات پر منانا پڑا ہے جن سے بھارت کے خارجہ تعلقات پر اثر پڑتا ہے۔

ایک دہائی پہلے تک یہ سب معاملات صرف وفاقی حکومت کے زیرِ دست ہوتے۔ بھارتی آئین کے مطابق بھی خارجہ پالیسی صرف اور صرف وفاقی حکومت کے دائرہِ کار میں ہے اور ریاستوں کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔

تاہم اب لگتا ہے کہ حالات ایسے نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ایسا بھی نہیں کہا جا سکتا کہ خارجہ پالیسی کے تمام معاملات پر ریاستیں حاوی ہو رہی ہیں۔ بہت سے ایسے خارجہ پالیسی کے موضوعات ہیں کہ جن پر وفاق ریاستوں سے مخالفت کے بغیر اپنی مرضی چلا رہا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی خارجہ پالیسی کا معاملہ جس سے ریاستی مفادات پر اثر پڑے اور خاص کر ایسے مواقع جہاں علاقائی جماعت کے نظریات کے خلاف بات ہو، وفاق انہیں اب نظر انداز نہیں کر سکتا۔

سوال یہ ہے کہ جب بیرونی طاقتیں براہِ راست علاقائی رہنماؤں کے پاس جانے لگیں تو کیا ہوگا؟

دریائے تیستا کا مسئلہ یا ریٹیل مارکیٹ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے معاملات صرف امریکی دلچسپی کے معاملات نہیں۔ ریٹیل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے معاملے پر تو چند یورپی ممالک بھی پالیسی میں تبدیلی کے منتظر ہیں۔

اگر بڑی بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہ بھارتی ایوان ہائے تجارت کے حکام سے ملاقاتیں کریں تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ مگر اگر امریکی وزیرِ خارجہ اس معاملے میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے لگیں تو وہ لوگ جو حقیقی طور پر اس اقدام کے حق میں ہیں، شاید وہ بھی اس کی حمایت چھوڑ دیں گے۔ اس معاملے میں غیر نفیس امریکی سفارتکاری شاید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر امریکی واضح طور پر ریٹیل مارکیٹ کے موضوع کو مغربی بنگال کے ساتھ زیرِ بحث لائے تو خطرہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ وہ جان بوجھ کر بھارتی وفاق اور ریاستوں کے بیچ آئینی حقوق کی تقسیم کو اور وزیرِ اعظم کے عہدے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

یہ وزیرِ اعظم کا کام ہے کہ وہ اپنی حکومت کی پالیسیوں پر عملدرآمد کرواے نہ کہ کسی اور ملک کی وزیرِ خارجہ کا!

وفاق کی اپنی خارجہ پالیسی یا اقتصادی اہداف کو آگے بڑھانے میں نااہلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں اور علاقائی جماعتوں کو بخوبی قائل نہیں کر سکتی۔

تاہم یہ ایک اندرونی معاملہ ہے اور یہ اس بات کی اجازت بالکل نہیں دیتا کہ بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت دی جائے چاہے ان کا تعلق خارجہ پالیسی سے ہی ہو۔

اسی بارے میں