کشمیر سمجھوتے پر حُرّیت میں پھوٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسئلہ کشمیر پر حریت میں اختلافات ابھرے ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرینگر میں واقع علیٰحدگی پسندوں کے صدردفتر پر منگل کے روز اُس وقت ہنگامہ خیز صورتحال پیدا ہوگئی جب نوجوانوں کے الگ الگ گروپوں نے اپنے اپنے رہنماؤں کے حق میں نعرے بازی کی۔

درجنوں حریت کارکن حریت کے دفتر میں اُس وقت داخل ہوگئے جب میر واعظ عمرفاروق کی سربراہی میں ایک اجلاس جاری تھا۔ یہ اجلاس حریت رہنماء پروفیسر عبدالغنی بٹ کے ایک متنازعہ بیان کے بعد گروہ بندی کو روکنے کےلیے طلب کیا گیا تھا۔

پروفیسر بٹ نےگزشتہ روز ایک تقریب میں کہا تھا کہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی چونسٹھ سالہ قراردادیں اب فرسودہ ہوچکی ہیں لہٰذا مسئلہ کشمیر حل کرنے کےلیے علیٰحدگی پسندوں اور ہندنواز گروپوں کو مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔

سمجھوتے کا یہ نیا فارمولہ سامنے آتے ہی حریت کانفرنس کی جنرل کونسل کے سبھی رہنماؤں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ اسی دوران پروفیسر بٹ کی پارٹی مسلم کانفرنس کے جنرل سیکرٹری شبیر احمد ڈار نے دعویٰ کیا کہ پروفیسر بٹ کو پارٹی سے بے دخل کیا گیا ہے۔

شدید نعرے بازی اور دھکم پیل کے بیچ منگل کے روز میرواعظ عمرفاروق نے حریت دفتر میں ہی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے بتایا :’ہم نے تمام اراکین کو اس ضابطہ کا پابند کر دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنی ذاتی آرا کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے کی بجائے حریت کے اندر زیربحث لائیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ پروفیسر بٹ نے اپنے فارمولے کو وے فارورڑ یعنی آگے بڑھنے کا راستہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب فوجی انخلا„ کیا جائے اور پندرہ سال تک سیاسی، سماجی اور معاشی رابطوں کے بعد عوام سے رائے لی جائے۔

انہوں نے بدلتے عالمی منظرنامے کا حوالہ دیکر دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اب فرسودہ ہوچکی ہیں۔

غور طلب ہے کہ پچھلے ہفتے بھارتی خفیہ ادارہ ریسرچ اینڈ اینالیسِز یا’را‘ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت نے کشمیر کا دورہ کیا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے بعض علیٰحدگی پسندوں کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ مسٹر دُلت کشمیر معاملات کے لیے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے خاص مشیر رہ چکے ہیں۔

سرینگر میں قیام کے دوران انہوں نے ایک مقامی روزنامہ کو انٹرویو میں بتایا کہ سیاسی عمل بہت آگے بڑھا ہے، لیکن یہ حریت کی شرکت کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے ہندپاک مذاکرات کے ساتھ ساتھ دہلی۔سرینگر مذاکرات پر بھی زور دیا ہے۔

یہ پوچھنے پر کہ ماضی میں حریت کانفرنس میں پھوٹ کے لئے انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، مسٹر دُلت کہتے ہیں: 'حریت کو آئی ایس آئی نے توڑا، لیکن اگر مجھے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے تو میں اسے حوصلہ افزا الزام سمجھتا ہوں۔'

دریں وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے : 'حریت میں گروہ بندی یا پھوٹ ان کے لئے پریشانی کا باعث نہیں ہے بلکہ یہ حریت والوں کے ہی مفادات کے خلاف ہے۔'

نئی دلّی کے ساتھ مذاکرات یا بھارتی نگرانی میں ہونے والے انتخابات سے متعلق پالیسی کو لے کر حریت کانفرنس پچھلے کئی سال سے اختلافات کا شکار رہی ہے۔

دو ہزار تین میں تراسی سالہ علیٰحدگی پسند رہنما سیّد علی گیلانی نے دعویٰ کیا کہ الیکشن میں حریت کانفرنس کے بعض پراکسی امیدوار نے حصہ لیا۔ اس پر وہ حریت سے الگ ہوگئے اور کئی تنظیموں کے دھڑوں پر مشتمل اپنی الگ حریت کانفرنس بنائی۔

بعدازاں حریت کانفرنس نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی، ان کے نائب ایل کے ایڈوانی اور موجودہ وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ مذاکرات کے کئی ادوار کئے۔

دریں اثنا سید علی گیلانی کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں کہا ہے : 'اقوام متحدہ کی قراردادیں مسلہ کشمیر کی قانونی بنیادیں ہیں، ان قراردادوں سے دستبردار ہونے کا مطلب بھارت کے ناجائز فوجی قبضہ کو تسلیم کرنا ہے۔'

اسی بارے میں