’بھارتی فوجی اسلحے کی فروخت میں ملوث‘

بھارتی فوج کا ایک فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوج کے مطابق یہ معاملہ سنہ 2002 اور 2004 کے درمیان کا ہے

بھارتی فوج نے اپنے چوہتر اہلکاروں کو غیر قانونی طریقے سے اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے میں قصور وار ٹھہرایا ہے۔

ان میں سے تینتیس کے خلاف فوجی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے کا مقدمہ چلایا گیا تھا جب کہ باقی اہلکاروں کو بھی سزا دی گئی ہے۔

فوجی اہلکاروں کی جانب سے غیر قانونی طریقے سے اسلحہ فروخت کرنے کا یہ معاملہ راجستھان کے شری گنگا نگر ضلع میں پیش آیا۔

فوج کے مطابق یہ معاملہ سنہ 2002 اور سنہ 2004 کے درمیان کا ہے۔

فوجی اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے شری گنگا نگر کے مقامی اہلکاروں کے ساتھ مل کر اسلحہ غیر قانونی طریقے سے فروخت کر دیا۔

بھارتی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق ’اس معاملے میں فوج نے کارروائی کی اور اس واقعہ کے بعد اسلحے کے لین دین کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی گئی ہے تاکہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ نہ پیش آئے۔‘

فوج نے اس معاملے کی تفتیش کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دی تھی۔

اس تفتیش کے دوران فوج کے چوہتر اہلکاروں کو قصوروار پایا گیا۔

دوسری جانب راجستھان حکومت نے بھی معاملے کی تفتیش کرائي اور ریاستی انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں کو برخاست کیا گیا تھا۔

ریاست حکومت نے ریاست کے اینٹی کرپشن بیوروں سے تفتیش کرنے کے لیے کہا تھا۔

بیورو کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ اس معاملے کی بعض پہلوؤں کی تفتیش جاری ہے۔ ان کے مطابق دو معاملات کی تفتیش پوری ہو چکی ہے اور جلد ہی قصورواروں کے خلاف ثبوت عدالت میں پیش کر دیے جائیں گے۔ اس بیورونے چودہ ایف آئی آر درج کیے تھے۔

اسی بارے میں