انڈیا:چیتے کو واپس لانے کا منصوبہ معطل‘

Image caption بھارت میں گزشتہ ایک ہزار سال میں چیتا واحد بڑا جانور ہے جو ناپید ہوا ہے اور اس کا باقاعدہ اعلان سنہ انیس سو باون میں کیا گیا تھا: ماہرین

بھارت کی سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ ملک میں کئی دہائیاں قبل شکار کے ذریعے ختم ہوتی چیتے کی نسل کو دوبارہ آباد کرنے کے منصوبے کو معطل کیا جائے۔

عدالت کا یہ حکم ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت میں بعض ماہرین اسے پہلے ہی ’غیر حقیقی‘ منصوبہ قراد دے چکے ہیں۔

اس سے قبل حکومت نے ماحولیات کے لیے کام کرنے والے دو گروپوں کے تین سو کروڑ روپے کے اس منصوبے کو منظوری دے تھی جس کے تحت وہ ریاست مدھیہ پردیش اور راجستھان میں واقع جانوروں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں میں چیتے کو دوبارہ آباد کیا جانا تھا۔

اس منصبوبے کے تحت ایران یا افریقہ سے چیتے درآمد کیے جانے تھے اور ان کے لیے دو محفوظ پناہ گاہیں قائم کی جانی تھیں۔

بھارت میں چیتا کئی دہائیاں قبل ناپید ہوگیا تھا اور جنگلی حیات کے ماہرین کافی عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ اس نسل کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے ایسے ممالک سے چیتے درآمد کیے جائیں گے جہاں وہ آج بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور جن کی نسل ناپید ہوجانے والے بھارتی چیتے کی نسل سے ملتی جلتی ہے۔

ایک سینیئر وکیل پی ایس نرسما نے عدالت کو بتایا کہ چیتے کو دوبارہ متعارف کرانے کا منصوبہ نیشنل بورڈ آف وائلڈ لائف یعنی جنگلات سے متعلق قوانین بنانے کے سرکاری محکمہ کے ساتھ بات چیت کر کے نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے عدالت سے کہا ’سائنسی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ افریقی چیتا اور ایشائی چیتا ایک دوسرے سے جینیاتی لحاظ سے بالکل الگ ہوتے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ منصوبہ قدرتی وسائل کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے کی عالمی یونین انٹرنیشنل یونین فار دا کنزرویشن آف نیچر کے ضوابط کی بھی خلاف ورزی ہے۔

ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سو سے بھی کم نایاب چیتے ایران میں موجود ہیں۔ دنیا میں موجود دس ہزار چیتوں میں سے سب سے زیادہ چیتے افریقہ میں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ چیتوں کی بیرون ممالک سے لانے کی تجویز سب سے پہلے جنگلی جانوروں کے تحفظ کے ماہر رنجیت سنگھ نے پیش کی تھی جو اب غیر سرکاری ادارے ’وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا‘ سے وابسطہ ہیں۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں گزشتہ ایک ہزار سال میں چیتا واحد بڑا جانور ہے جو ناپید ہوا ہے اور اس کا باقاعدہ اعلان سنہ انیس سو باون میں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں