لڑکی کو زندہ دفناتے ہوئے باپ، ماموں گرفتار

بھارت میں خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت میں جادو ٹونے کے واقعات عام بات ہے

اترپردیش کی پولیس کا کہنا ہے کہ ایک جادو ٹونا کرنے والے کے کہنے پر اپنی دو ماہ کی بچی کو زندہ دفنانے کی کوشش کرنے والے باپ اور بچی کے ماموں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رام دت تریپاٹھی نے بتایا کہ یہ واقعہ دِلّی سے تقریباً ستر کلو میٹر دور پلکھوا علاقے میں پیش آیا ہے۔ پلکھوا تھانے سے ایک سینیئر پولیس اہلکار بی کے یادو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بچی کے والد اور ماموں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس بچی کو اس کے والد اور ماموں ایک جادو ٹونا کرنے والے کے کہنے پر اسے زندہ دفنانے جارہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے ان کے ہاں پیدا ہونے والے دوسرے بچے کی صحت بہتر ہوگی۔

اس خاندان میں ایک اور بچی ہے جو خوراک کی کمی کا شکار ہے۔ یہ خاندان مزدوری کر کے اپنا گزر بسر کرتا ہے۔

رادیکھا نام کی دو ماہ کی اس بچی کو میرٹھ شہر کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جادو ٹونا کرنے والے کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے جس کے کہنے پر یہ لوگ بچی کو دفنانے کی کوشش کررہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شمشان گھاٹ کے چوکیدار نے پولیس کو اطلاع دی کہ بعض لوگ ایک ایسی چھوٹی بچی کو دفنانے کی کوشش کررہے ہیں جو مسلسل رو رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جب پولیس وہاں پہنچی وہ لوگ بچی کی قبر کھود چکے تھے اور بچی کو ایک کپڑے میں لپیٹا ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران بچی کے والد دنیش اور والدہ بھارتی نے بتایا کہ وہ جادو ٹونا کرنے والے کے کہنے پر ایسا کر رہے تھے اور بچی کے ماموں اس کام میں ان کی مدد کر رہے تھے۔

پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ لڑکی کو ہسپتال بھیج دیا گیا ہے اور ساتھ ہی اس کی ماں کو بھی ہسپتال بھیجا گیا تاکہ وہ بچی کی دیکھ بھال کرسکے۔

اسی بارے میں