اترپردیش: سابق صحت سیکریٹری حراست میں

سی بی آئی کا لوگو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سی بی آئی نے مسٹر پردیپ شکلا کو لکھنو ائیرپورٹ سے حراست میں لیا ہے

سی بی آئی نے ریاست اترپردیش کے سابق چیف ہیلتھ سیکرٹری پردیپ شکلا کو صحت کے شعبے میں ہوئےگھپلے کے معاملے میں حراست میں لے لیا ہے۔

پردیپ شکلا کو جمعرات کی صبح لکھنو ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب ذرائع کے مطابق وہ لکھنو سے دلی جارہے تھے۔

پردیپ شکلا نیشنل رورل ہیلتھ مشن یعنی این آر ایچ ایم گھپلے کے اہم ملزم ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ مایاوتی حکومت کے دوران ہوئے اس معاملے میں مبینہ طور پر تقریبا پانچ ہزار کروڑ روپے کا گھپلا ہوا تھا۔

کافی دنوں سے اس طرح کی قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے لیکن ذرائع کے مطابق انہیں ریاستی اور مرکزی حکومت میں موجود بعض طاقتور سیاستدانوں کا تحفظ حاصل تھا۔ اس لیے سی بی آئی ابھی تک انہیں حراست میں نہیں لے پائی تھی۔

اس سے قبل سی بی آئی نے این ایچ آر ایم کے لیے مخصوص رقم میں کی گئے گھپلے کی تفتیش کے سلسلے میں معاملہ درج کیا تھا۔

اس معاملے میں اترپردیش کے سابق وزیر بابو سنگھ کشواہا کا نام بھی سامنے آیا تھا جس کے بعد ان کے گھر پر چھاپے مارے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق سی بی آئی نے اس معاملے میں بارہ ایف آئی آر درج کی تھیں۔

اس معاملے کی تفتیش کے دوران سی بی آئی نے دلی اور ہریانہ میں مایاوتی حکومت کے وزراء اور اہلکاروں رہائش گاہوں پر چھاپے مارے تھے۔

اس معاملے میں بابو سنگھ کشواہا کا نام سامنے آنے کے بعد مایاوتی نے انہیں برخاست کردیا تھا۔ بابو سنگھ کشواہا نے بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا دامن تھام لیا تھا۔

اسی بارے میں