’جعفری نے فسادیوں کو اشتعال دلایا ہوگا‘

گجرات فسادات کی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گجرات فسادات بھارت کی تاریخ میں ہونے والے سب سے خوفناک فسادات میں سے ایک ہیں۔

سنہ دوہزار دو میں ریاست گجرات میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی تفتیش کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے کہا ہے کہ ممبر پارلیمان احسان جعفری نے فسادیوں پر گولی چلا کر انہیں مشتعل کیا ہوگا جس کے نتیجے میں ان کی موت ہوئی۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم یعنی ایس آئی ٹی نے یہ متنازع انکشاف سپریم کورٹ کو پیش کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ گزشتہ پہلے عدالت کو پیش کی تھی جس کی تفصیلات دھیرے دھیرے سامنے آرہی ہیں۔

واضح رہے کہ سنہ دوہزار دو میں گجرات فسادات کے دوران احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی میں جو انہتر افراد مارے گئے تھے ان میں کانگریس پارٹی کے ممبر پارلیمان احسان جعفری بھی شامل تھے۔

ریاستی اعدادو شمار کے مطابق گجرات فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے جبکہ غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔

ایس آئی ٹی سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دہ کمیٹی ہے جو گجرات فسادات کے اہم معاملات کی تفتیش کررہی ہے۔

ایس آئي ٹی کو سپریم کورٹ نے اس بات کی تفتیش کے لیے بھی متعین کیا تھا کہ فسادات میں نریندر مودی کے کردار کے متعلق پتہ کر سکے اور اس نے اپنی رپورٹ میں یہ کہا تھا کہ نریندر مودی کے خلاف مقدمہ چلانے لائق کوئي ثبوت نہیں ہے۔

حالانکہ ایس آئی کی جانب سے نریندر مودی کو کلین چٹ دیے جانے کے بعد سپریم کورٹ کے مقرر کردہ معاون وکیل راجیو رام چندرن نے کہا تھا کہ کہ گجرات کے فسادات میں نریندر مودی کے ملوث ہونے کے الزامات کے بارے میں مزید تفتیش ہونی چاہیے اور یہ کہ واقعاتی شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے۔

ایس آئی ٹی نے عدالت کے سامنے جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں کہا ہے کہ احسان جعفری نے فسادیوں پر گولی چلائی ' اور مشتعل فسادیوں نے گلبرگ سوسائٹی کو آگ لگادی'۔

یکم مارچ 2002 کو ایک نجی ٹی وی چینل کے دیئے انٹریو میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ احسان جعفری کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں گلبرگ سوسائٹی میں فساد بھڑکا۔ انہوں نے کہا تھا ’جعفری کے ایکشن کا ری ایکشن ہوا تھا‘۔

حالانکہ نریندر مودی نے بعد میں کہا تھا کہ ان کے بیان کو غلط طور پر پیش کیا گیا ہے انہوں نے ایسا نہیں کہا تھا۔

احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کا مطالبہ تھا کہ اس کیس میں وزیراعلیٰ نریندر مودی اور کئی دیگر اعلیٰ سرکاری افسران کو بھی ملزم بنایا جانا چاہیے۔ بقول ان کے نریندر مودی نے دانستہ طور پر فسادات کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

ذکیہ جعفری نے جب اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو عدالت نے اپنی نگرانی میں ایس آئی ٹی سے تفتیش کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ذکیہ جعفری کا یہ بھی الزام ہے کہ ان کے خاوند احسان جعفری نے مدد کے لیے نریندر مودی کو فون کیا تھا لیکن ان کی جانب سے کوئی مدد نہیں کی گئی۔

گلبرگ سوسائٹی فسادات میں بچنے والوں کا کہنا ہے کہ احسان جعفری نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی۔

اسی بارے میں