تبرک کی دیگیں ایک کروڑ 89 لاکھ میں نیلام

deg, ajmer تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عرس کے دوران ان دیگوں میں تبرک پكتا ہے اور وہاں آنے والے زائرین میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

معلوم نہیں کہ یہ عقیدے کی گہرائی ہے یا پھر بڑھتی مہنگائی کا اثر کہ اس سال اجمیر کے صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتي کی درگاہ میں سالانہ عرس کے دوران تبرک پکانے کے لئے دو دیگوں کی نیلامی میں ریکارڈ بولی لگائی گئی ہے۔

اس بار ان دو بڑی دیگوں کے لیے بولی لگانے والوں کو ایک کروڑ نواسی لاکھ پچیس ہزار روپے دینے ہوں گے۔

گزشتہ سال ان دیگوں کے لیے ایک کروڑ تریپن لاکھ روپے سے زائد کی پولی لگی تھی۔

عرس کے دوران ان دیگوں میں تبرک پكتا ہے اور وہاں آنے والے زائرین میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ ٹھیکہ صرف پندرہ دنوں کے لیے ہے۔ عرس بائیس مئی سے شروع ہو رہا ہے۔

بعض لوگ اپنی منت پوری ہونے پر بھی اس درگاہ میں تبرک کا کھانا بنواتے ہیں۔ عرس کے دوران اس درگاہ میں مختلف کھانے بنوائے جاتے ہیں، جو زائرین میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔

یہ کام درگاہ کے خادموں کی تنظیم انجمن کی نگرانی میں کیا جاتا ہے۔

انجمن کے صدر سید حسام الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دیگوں میں لوگ اپنی خواہش پوری ہونے پر نياز یعنی تبرک کا کھانا پكواتے رہتے ہیں‘

ان کا مزید کہنا تھا ’یقین مانیں کہ ان دیگوں کے لیے ساڑھے تین سال کے لیے پیشگی بکنگ چل رہی ہے۔ اس بار بولی میں کئی خادم شریک ہوئے اور یہ کام کوئی سولہ گھنٹے سے بھی زیادہ چلا۔ بعد میں ناصر ہاشمی کے گروپ کو اس میں کامیابی ملی۔‘

انجمن کے سابق سیکرٹری سرور چشتی کا کہنا ہے کہ اس نیلامی سے ملنے والی رقم سے انجمن لنگر چلاتی ہے، بچوں کی تعلیم میں پیسہ خرچ ہوتا ہے اور ایسے ہی سماجی کاموں میں مدد دی جاتی ہے۔

ان دیگوں میں پكنے والے نیاز کا کھانے میں چاول اور میدے کے علاوہ زعفران، گھی، گڑ، شکر، خشک میوے اور ہلدی جیسی چیزیں شامل کی جاتی ہیں۔

درگاہ میں رکھی بڑی دیگ مغل بادشاہ اکبر کی خواجہ سے ملاقات اور چھوٹی دیگ بادشاہ جہانگیر کے عقیدے کی گواہی دیتی ہے۔

انجمن کے مطابق بڑی دیگ میں چار ہزار آٹھ سو کلو گرام اور چھوٹی دیگ میں دو ہزار دو سو چالیس کلو گرام مواد بنایا جا سکتا ہے۔

یہ اتنے بڑی ہیں کہ تقریباً چار ہزار سے زیادہ لوگ اس سے کھانا کھا سکتے ہیں۔

عرس کے علاوہ عام دنوں میں اگر کوئی عقیدت مند ان دیگوں میں نیاز پكوانا چاہے تو چھوٹی دیگ کے لئے ساٹھ سے ستر ہزار اور بڑی دیگ کے لئے لگ بھگ ایک لاکھ چالیس ہزار روپے جمع کرنے ہوتے ہیں۔

وقتاً فوقتاً ان دیگوں کی مرمت بھی کرائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں